مصنف عبدالرزاق · كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْمَسْحِ عَلَى الْعَصَائِبِ وَالْجُرُوحِ · حديث 616
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادِ بْنِ بِشْرٍ بِمَكَّةَ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، قَالَ: قَرَأْنَا عَلَى عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: قُرْحَةٌ فِي ذِرَاعِي قَالَ: «لَا نُعْرِبُهَا وَأَمِسَّهَا الْمَاءَ»، قُلْتُ: أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ حَوْلَ الْجُرْحِ دَمٌ وَقَيْحٌ وَلَكِنْ قَدْ لَصَقَ عَلَى شَفَةِ الْجُرْحِ قَالَ: «فَاتْبَعْهُ بِصُوفَةٍ، أَوْ كُرْسُفَةٍ فِيهَا مَاءٌ فَاغْسِلْهُ»، قُلْتُ: فَلَا رُخْصَةَ لِي أَنْ لَا أَمَسَّهُ وَلَا أُنَقِّيَهُ؟ قَالَ: «لَا تُصَلِّ وَبِكَ دَمٌ»
ابن جریح بیان کرتے ہیں : میں نے عطا ء سے دریافت کیا : میری کلائی پر زخم ہے اُنہوں نے فرمایا :ہم اُسے معاف نہیں کریں گے تم اُس پر پانی لگاؤ میں نے کہا: آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے کہ اگر اُس زخم کے ارد گرد خون یا پیپ موجود ہو اور وہ زخم کے سوراخ پر چپکی ہوئی ہو ۔ تو اُنہوں نے فرمایا: تم ا س پر روئی یا کپڑا لگاؤ جس پر پانی لگا ہوا ہو اور اسے دھو لو۔ میں نے کہا : کیا اس بارے میں میرے لیے کوئی رخصت نہیں ہے کہ میں اس پر پانی نہ لگاؤں اور اسے صاف نہ کروں ۔ تو اُنہوں نے فرمایا : تم ایسے حالت میں نماز اد ا نہ کرو کہ اُس پر خون لگا ہو ۔
ابْنُ جُرَيْجٍ، ← قَرَأْنَا عَلَى عَبْدِ الرَّزَّاقِ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، ← أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادِ بْنِ بِشْرٍ
Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Purity › The door of sacking on strains and wounds · Hadith 616
