مصنف عبدالرزاق · كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْوُضُوءِ مِنَ النَّوْرَةِ · حديث 495
عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: رَجُلٌ أَطْلَى بِنَوْرَةٍ هَلْ عَلَيْهِ وُضُوءٌ؟ قَالَ: «أَوَ لَيْسَ مُغْتَسِلًا؟» قَالَ: «وَلَا بُدَّ لَهُ أَنْ يَمَسَّ ذَكَرَهُ» - هُوَ الْقَائِلُ - قَالَ: قُلْتُ: فَطَلَى سَاقَيْهِ مِنْ وَجَعٍ بِهِمَا وَهُوَ مُتَوَضِّئٌ أَيُعِيدُ الْوُضُوءَ؟ قَالَ: «لَيْسَتِ النَّوْرَةُ بِحَدَثٍ»
ابن جریح بیان کرتے ہیں:ایک شخص نے نوررہاستعمال کیا تو اُس پر وضو لازم ہوگا؟ تو عطاء نے کہا : کیا اُس نے غسل نہیں کرنا تھا؟اُنہوں نے جواب دیا : اُس شخص نے ضرور اپنی چھوا ہوگا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے کہا کہ اگر وہ اپنی پنڈلیوں پر ہونے والی کسی تکلیف کی وجہ سے اُن پر یہ پاؤڈر لگا لیتا ہے اور وہ اُس وقت باوضو میں تھا تو کیا وہ وضو دہرئے گا؟تو عطا ء نے فرمایا : نورہ کوئی حدث نہیں ہے۔
«لَيْسَتِ النَّوْرَةُ بِحَدَثٍ» ← قُلْتُ: فَطَلَى سَاقَيْهِ مِنْ وَجَعٍ بِهِمَا وَهُوَ مُتَوَضِّئٌ أَيُعِيدُ الْوُضُوءَ؟ ← «وَلَا بُدَّ لَهُ أَنْ يَمَسَّ ذَكَرَهُ» هُوَ الْقَائِلُ ← «أَوَ لَيْسَ مُغْتَسِلًا؟» ← قُلْتُ لِعَطَاءٍ: رَجُلٌ أَطْلَى بِنَوْرَةٍ هَلْ عَلَيْهِ وُضُوءٌ؟ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Hadith 495
