مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الزَّكَاةِ ‹ بَابُ ضَمَانِ الزَّكَاةِ · حديث 6936
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ قَالَ: سَأَلْتُ حَمَّادًا، عَنْ رَجُلٍ بَعَثَ بِزَكَاتِهِ مَعَ رَجُلٍ يَدْفَعُهَا إِلَى السُّلْطَانِ، فَهَلَكَتْ فِي الطَّرِيقِ، أَتُجْزِئُ عَنْهُ؟ قَالَ: فَضَحِكَ، وَقَالَ: مَا أَنْتُمْ يَا أَهْلَ الْبَصْرَةِ إِلَا قِطْعَةٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ، سَكَنْتُمْ بَيْنَ أَهْلِ الْعِرَاقِ، وَلَا تُجْزِئُ عَنْهُ، وَإِنْ بَلَغَتْ أَيْضًا هِيَ بِمَنْزِلَةِ الدَّيْنِ، قَالَ: قُلْتُ لَهُ: فَابْنُ عُمَرَ قَالَ: «ادْفَعُوا إِلَيْهِمْ، وَإِنْ تَمَزَّقُوا لُحُومَ الْكِلَابِ عَلَى مَوَائِدِهِمْ»، فَقَالَ: مَعَاذَ اللَّهِ أَنْ يَقُولَ ابْنُ عُمَرَ ذَلِكَ
معمر بیان کرتے ہیں: میں نے حماد سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا جو کسی شخص کے ذریعہ اپنی زکوٰۃ بھیجواتا ہے تاکہ وہ شخص اُسے حکمران کے حوالے کر دے تو وہ زکوٰۃ راستے میں ضائع ہو جاتی ہے تو کیا اُس شخص کی طرف سے ادا ہو جائے گی ؟ راوی کہتے ہیں: تو حماد ہنس پڑے اور فرمایا : اے اہل بصرہ ! تم لوگ بھی اہل شام کے رہنے والے لوگوں کی طرح ہو تم اہل عراق کے درمیان رہتے ہو اُس شخص کی طرف سے زکوٰۃ ادا نہیں ہو گی اور یہ قرض شمار ہو گی ۔ راوی کہتے ہیں: میں نے اُن سے کہا: حضر ت عبداللہ بن عمر تو یہ فرماتے ہیں: تم اُن کے حوالے سے کر دو خواہ وہ لوگ اپنے دستر خوان پر کتے کے گوشت کے ٹکڑے کھاتے ہوں ۔ تو اُنہوں نے فرمایا: اس بات سے اللہ کی پناہ ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر نے یہ بات کہی ہے ۔
مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Hadith 6936
