مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ الرَّجُلِ يَقُومُ وَحْدَهُ فِي الصَّفِّ · حديث 2481
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: أَيُكْرَهُ أَنْ يَقُومَ الرَّجُلُ وَحْدَهُ وَرَاءَ الصَّفِّ؟ قَالَ: «نَعَمْ، وَالرَّجُلَانِ وَالثَّلَاثَةُ، إِلَّا فِي الصَّفِّ فَإِنَّ فِيهَا فُرَجًا»، قُلْتُ لِعَطَاءٍ: أَرَأَيْتَ إِنْ وَجَدْتُ الصَّفَّ مَدْحُوسًا لَا أَرَى فُرْجَةً أَقُومُ وَرَاءَهُمْ؟ قَالَ: " {لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا} [البقرة: 286]، وَأَحَبُّ إِلَيَّ وَاللَّهِ أَنْ أَدْخُلَ فِيهِ " وَذَكَرَ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ أَبِي أُمَيَّةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: يُقَالُ: «إِذَا دُحِسَ الصَّفُّ فَلَمْ يَكُنْ فِيهِ مَدْخَلٌ، فَلْيَسْتَخْرِجْ رَجُلًا مِنَ ذَلِكَ الصَّفِّ فَلْيَقُمْ مَعَهُ، فَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ فَصَلَاتُهُ تِلْكَ صَلَاةُ وَاحِدٍ لَيْسَ بِصَلَاةِ جَمَاعَةٍ»
ابن جریح بیان کرتے ہیں: میں نے عطا ء سے دریافت کیا: کیا یہ بات مکروہ ہے آدمی صف میں پیچھے اکیلا کھڑا ہوجائے؟ اُنہوں نے جواب دیا: جی ہاں! دو آدمی ہوں یا تین آدمی ہوں اور یہ صرف صف کے بارے میں حکم ہے جبکہ اُس میں کشادگی ہو ۔ میں نے عطا ء سے دریافت کیا : اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے اگر میں صف کو ایسی حالت میں پاتا ہوں کہ وہ بالکل جڑی ہوئی ہے اُس میں کشادگی نہیں ہے تو کیا میں اُن کے پیچھے کھڑا ہو جاؤں؟ تو اُنہوں نے جواب مین یہ آیت پڑھ دیا: اللہ تعالیٰ نے آدمی کی گنجائش کے مطابق اُسے پابند کیا ہے ۔البتہ میرے نزدیک اللہ کی قسم ! یہ بات زیادہ محبوب ہو گی کہ میں اُس صف میں داخل ہو جاؤں۔ ابن جریح نے ابراہیم کا یہ قول نقل کیا ہے : یہ بات کہی جاتی ہے جب صف ملی ہوئی ہو اور اُس میں داخل ہونے کی گنجائش نہ ہو تو اُس صف میں سے ایک آدمی کو نکال لینا چاہیے اور آدمی اُس کے ساتھ کھڑا ہو جائے اگر ایسا نہیں کرتا تو ایسے شخص کی نماز اکیلے شخص کی نماز میں شمار ہو گی جماعت کے ساتھ نماز شمار نہیں ہوگی ۔
قُلْتُ لِعَطَاءٍ: أَيُكْرَهُ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Hadith 2481
