مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْحَيْضِ ‹ بَابُ مُبَاشَرَةِ الْحَائِضِ · حديث 1233
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ نُدْبَةَ، مَوْلَاةٍ لِمَيْمُونَةَ قَالَتْ: دَخَلْتُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ وَأَرْسَلَتْنِي مَيْمُونَةُ إِلَيْهِ فَإِذَا فِي بَيْتِهِ فِرَاشَانِ، فَرَجَعْتُ إِلَى مَيْمُونَةَ فَقُلْتُ: مَا أَرَى ابْنَ عَبَّاسٍ إِلَّا مُهَاجِرًا لِأَهْلِهِ، فَأَرْسَلَتْ إِلَى بِنْتِ مِشْرَحٍ الْكِنْدِيِّ امْرَأَةِ ابْنِ عَبَّاسٍ تَسْأَلُهَا، فَقَالَتْ: لَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ هَجْرٌ، وَلَكِنِّي حَائِضٌ فَأَرْسَلَتْ مَيْمُونَةُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ: «أَتَرْغَبُ عَنْ سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» يُبَاشِرُ الْمَرْأَةَ مِنْ نِسَائِهِ حَائِضًا تَكُونُ عَلَيْهَا الْخِرْقَةُ إِلَى الرُّكْبَةِ، أَوْ إِلَى نِصْفِ الْفَخِذِ ".
سیدہ میمونہ کی کنیز ندبہ بیان کرتی ہیں: میں حضرت عبداللہ بن عباس کے پاس گئی سیدہ میمونہ نے مجھے اُن کے پاس بھیجوایا تھا اُ ن کے گھر میں دو بستر تھے جب میں سیدہ میمونہ کے پاس واپس گئی میں نے کہا : میرا خیال ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس نے اپنی بیدی سے علیدگی اختیار کی ہوئی ہے۔ تو سیدہ میمونہ نے حضرت عبداللہ بن عباس کی اہلیہ جو مشرح کندی کی صاحبزادی تھیں اُسے پیغام بھیجوایا اور اُس سے دریافت کیا کہ کیا صورت حال ہے تو اُس خاتون نے کہا: میرے اور اُٗن کے درمیان کرئی لاتعلقی نہیں ہے بلکہ مجھے حیض آیا ہوا ہے ۔ تو سیدہ میمونہ نے حضرت عبداللہ بن عباس کو پیغام بھیجوایا کہ کیا تم نبی اکرم ﷺ کی سنت سے منہ موڑ رہے ہو نبی اکرم ﷺ اپنی ازواج میں سے کسی رؤجہ محترمہ کے ساتھ اُس خاتون کی حیض کی حالت مین مباثرت کر لیتے تھے اُس خاتون کے جسم پر گھنٹے تک نصف زانو تک کپڑا ہوتا تھا۔
نُدْبَةَ، مَوْلَاةٍ لِمَيْمُونَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Hadith 1233
