مصنف عبدالرزاق · كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْوُضُوءِ مِنْ مَسِّ الذَّكَرِ · حديث 410
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، أَنَّ بُسْرَةَ بِنْتَ صَفْوَانَ بْنِ مُحَرَّثٍ قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِحْدَانَا تَتَوَضَّأُ لِلصَّلَاةِ فَتَفْرَغُ مِنْ وُضُوئِهَا، ثُمَّ تُدْخِلُ يَدَهَا فِي دِرْعِهَا فَتَمَسُّ فَرْجَهَا أَيَجِبُ عَلَيْهَا الْوُضُوءُ؟ قَالَ: «نَعَمْ، إِذَا مَسَّتْ فَرْجَهَا فَلْتُعِدِ الصَّلَاةَ وَالْوُضُوءَ». قَالَ: وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو جَالِسٌ فَلَمْ يُفْزِعْ ذَلِكَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو بَعْدُ
سیدہ بصرہ بنت صفوان بیان کرتی ہین : میں نے عر ض کی : یا رسول اللہ ! ہم میں سے کوئی ایک عورت نماز کے لیے وضو کرتی ہے جب وہ وضو کر کے فارغ ہوتی ہے تو وہ اپنا ہاتھ اپنی قمیض میں داخل کرتی ہے اور اُس کا ہاتھ اُس کی شرمگاہ کو چھو لیتا ہے تو کیا اُس عورت کا دوبارہ وضو کرنا لازم ہو گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی ہاں! جب وہ اپنی شرمگاہ کو چھو لے تو اُسے اپنے وضو اور اپنی نماز کو دہرانا ہو گا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : وہاں حضرت عمرو بن عبداللہ تشریف فرما تھے اُس کے بعد حضرت عمرو بن عبداللہ نے اس کے حوالے سے کوئی اعتراض نہیں کیا۔
قُلْتُ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، أَنَّ بُسْرَةَ بِنْتَ صَفْوَانَ بْنِ مُحَرَّثٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Hadith 410
