مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ السَّهْوِ فِي الصَّلَاةِ · حديث 3462
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا نَادَى الْمُنَادِي أَدْبَرَ الشَّيْطَانُ لَهُ ضَرِيطٌ حَتَّى لَا يَسْمَعَ النِّدَاءَ، فَإِذَا سَكَتَ أَقْبَلَ، فَإِذَا ثَوَّبَ أَدْبَرَ لَهُ ضَرِيطٌ، فَإِذَا سَكَتَ أَقْبَلَ، فَإِنَّهُ لَيَخْطُرُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ يَقُولُ: اذْكُرْ كَذَا اذْكُرْ كَذَا، لِشَيْءٍ لَمْ يَكُنْ يَذْكُرُهُ قَبْلَ ذَلِكَ، فَيَظَلُّ الرَّجُلُ إِنْ يَدْرِي كَمْ صَلَّى، فَإِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ ذَلِكَ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ "
حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نےارشاد فرمایا: جب مؤذن اذان دیتا ہے تو شیطان پیٹھ پھیر کر چلا جاتا ہے اس کی ہوا خارج ہو رہی وہ اتنی دور چلا جاتا ہے اُسے اذان کی آواز نہ آئے جب وہ خاموش رہے تو وہ پھر آجاتا ہے جب مؤذن اقا مت کہتا ہے تو پھر پیٹھ پھیر کر چلا جاتا ہے اُسکی ہوا خارج ہو رہی ہوتی ہے جب مؤذن خاموش ہوتا ہے تو پھر آجاتا ہے اور پھر آدمی اُس کے دل کے درمیان کطرات پیدا کرنا شروع کر دیتا ہے اور یہ کہتا ہے : تم فلامں چیز کو یاف کرو! فلاں چیز کو یا د کرو! ایسی چیز کا نام لیتا ہے جو آدمی نے ویسے ہی نہیں یاد کرنی تھی اور پھر آدمی اُن چیز میں مگن ہو جاتا ہے اور اُسے یہ بھی پتا نہیں چلتا جہ اُس نے کتنی رکعت ادا کی ہیں۔
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · prayer book › Chapter of negligence in prayer · Hadith 3462
