مصنف عبدالرزاق · كتاب الطهارة ‹ بَابُ شَحْمِ الْمَيْتَةِ · حديث 208
عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ قَالَ: «ذَكَرُوا أَنَّهُ يُسْتَثْقَبُ بِشُحُومِ الْمَيْتَةِ، وَيُدَّهَنُ بِهَا السُّفُنُ، وَلَا يُمَسُّ» قَالَ: «يُؤْخَذُ بِعُودٍ» قُلْتُ: أَيُدَّهَنُ بِهَا غَيْرُ السُّفُنِ أَدِيمٌ أَوْ شَيْءٌ يُمَسُّ؟ قَالَ: «لَمْ أَعْلَمْ» قُلْتُ: وَأَيْنَ يُدَّهَنُ مِنَ السُّفُنِ؟ قَالَ: «ظُهُورُهَا وَلَا يُدَّهَنُ بُطُونُهَا» قُلْتُ: وَلَا بُدَّ أَنْ يَمَسَّ وَدَكَهَا بِيَدِهِ فِي الْمِصْبَاحِ؟ قَالَ: «فَلْيَغْسِلْ يَدَهُ إِذَا مَسَّهُ»
ابن جریح بیان کرتے ہیں : عطا ء نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ صحابہ کرام نے یہ بات ذکر کی ہے کہ وہ لوگ مردار کی چربی حاصل کرتے تھے اور اُس کے ذریعے کشتیوں کو تیل لگاتے تھےوہ اسے خود ہیں چھوتے تھے ۔ عطا ء نے یہ بتایا کہ وہ لکڑی کے ذریعے وہ چربی لی جاتی تھی۔ میں نے دریافت کیا : کیا اسے کشتیوں کے علاوہ بھی کسی چمڑے وغیرہ پر تیل کے طور پر لگایا جاتا تھا یا کسی ایسی چیز پر جسے چھوا جاتا ہو ؟ اُنہوں نے جواب دیا : مجھے نہیں معلوم ! میں نے دریافت کیا : کشتیوں پر یہ تیل کہاں لگایا جاتا تھا ؟ اُنہوں نے جواب دیا: اُس کے اوپری حصہ پراُس کے نیچے والے حصے پر نہیں لگایا جاتا تھا میں نے دریافت کیا: یہ بات تو ضروری ہو گی کہ چراغ مہیں اسکی چربی رکھتے وقت اسے چھو لیا جائےتو اُنہوں نے جواب دیا: اگر کوئی شخص اسے چھو لیتا ہے تو اُسے اپنے ہاتھ دھو لینا چاہیے ۔
ذَكَرُوا ← عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Purity › The door of mortal fat · Hadith 208
