مصنف عبدالرزاق · كتاب الطهارة ‹ بَابُ سُؤْرِ الدَّوَابِّ · حديث 361
عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي صَدَقَةُ بْنُ يَسَارٍ قَالَ: تَوَضَّأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَا فَاحْتَبَسَ، عَنْ أَصْحَابِهِ ثُمَّ خَرَجَ فَقَالُوا: مَا حَبَسَكَ؟ قَالَ: «دُوَيِّبَةٌ شَرِبَتِ الْهِرَّةُ» قَالَ صَدَقَةُ: لَا أَدْرِي أَمِنْ وَضُوئِهِ أَمْ مِنْ فَضْلِ وَضُوئِهِ لَا أَدْرِي وَقَالَ رَجُلٌ - حِينَئِذٍ عِنْدَنَا مِمَّنْ سَمِعَ الْعِلْمَ -: بَلْ مِنْ وَضُوئِهِ
صدقہ بن یسار بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم ﷺ نے وضو کر لیا لیکن کچھ دیر تک اپنے اصحاب کے پاس تشریف نہیں لائے پھر آپ تشریف لائے تو لاگوں نے عرض کی : آپ کیوں رُک گئے تھے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ایک بلی کی وجہ سے جو پانی پی رہی تھی ۔ صدقہ بن یسار نامی راوی بیان کرتے ہیں : مجھے نہیں معلام کہ وہ پانی نبی اکرم ﷺ کے وضو کا تھا یا آپ کے وضو سے بچا ہوا پانی تھا ۔ اس پر ایک صاحب نے یہ بات بیان کی کہ ہمارے ہاں ایک صاحب علم نے یہ بات بیان کی ہے کہ وہ آپ ﷺ کے وضو کا پانی تھا ۔
الْعِلْمَ بَلْ مِنْ وَضُوئِهِ ← رَجُلٌ حِينَئِذٍ عِنْدَنَا مِمَّنْ ← صَدَقَةُ: لَا أَدْرِي أَمِنْ وَضُوئِهِ أَمْ مِنْ فَضْلِ وَضُوئِهِ لَا أَدْرِي ← «دُوَيِّبَةٌ شَرِبَتِ الْهِرَّةُ» ← مَا حَبَسَك ← أَصْحَابِهِ ثُمَّ خَرَجَ ← توضأ النَّبىُّ يومًا فاحتبس ← صَدَقَةُ بْنُ يَسَارٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Purity › Whirlwind door · Hadith 361
