مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الِاعْتِكَافِ ‹ بَابُ الْجِوَارِ وَالِاعْتِكَافِ · حديث 8003
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: أَرَأَيْتَ الْجِوَارَ وَالِاعْتِكَافَ، أَمُخْتَلِفَانِ هُمَا أَمْ شَيْءٌ وَاحِدٌ؟ قَالَ: بَلْ هُمَا مُخْتَلِفَانِ كَانَتْ بُيُوتُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ، فَلَمَّا اعْتَكَفَ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ خَرَجَ مِنْ بُيُوتِهِ إِلَى بَطْنِ الْمَسْجِدِ فَاعْتَكَفَ فِيهِ "، قُلتُ لَهُ: فَإِنْ قَالَ إِنْسَانٌ: عَلَيَّ اعْتِكَافُ أَيَّامٍ فَفِي جَوْفِهِ لَا بُدَّ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَإِنْ قَالَ: عَلَيَّ جِوَارُ أَيَّامٍ، فَبِبَابِهِ أَوْ فِي جَوْفِهِ إِنْ شَاءَ
ابن جریح بیان کرتے ہیں: میں نے عطا ء سے دریافت کیا: جوار اور اعتکاف کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے کہ کیا یہ دونوں مختلف چیزیں ہیں یا ایک ہی چیز ہیں ؟ عطا ء نے جواب دیا: جی نہیں! بلکہ یہ دونوں مختلف ہیں نبی اکرمﷺ کے گھر مسجد کے ساتھ تھے جب نبی اکرمﷺ رمضان کے مہینہ میں اعتکاف کرتے تھے تو اپنے گھر سے باہر نکل کر مسجد میں آجاتے تھے اور ا ُس میں اعتکاف کیا کرتے تھے ۔ میں نے اُن سے دریافت کیا: اگر کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ مجھ پر کچھ دن کا اعتکاف لازم ہے تو کیا اُس کے لیے مسجد کے اندر آنا ضروری ہو گا ؟ اُنہوں نے جواب دیا: جی ہاں! اگر کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ مجھ پر کچھ دن کا جوار لازم ہے تو اُس کی مرضی ہے تو چاہے تو مسجد کے دروازے پر رہے اور اگر چاہے تو مسجد کے اند آجائے ۔
ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · I'tikaaf book › The section of the neighborhood and seclusion · Hadith 8003
