مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْعَقِيقَةِ ‹ بَابُ الْعَقِيقَةِ · حديث 7953
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ حَبِيبَةَ ابْنَةِ مَيْسَرَةَ بْنِ أَبِي خَيْثَمٍ، عَنْ أُمِّ بَنِي كُرْزٍ الْكَعْبِيَّةِ أَنَّهَا سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْعَقِيقَةِ، فَقَالَ: «عَلَى الْغُلَامِ شَاتَانِ مُكَافَأَتَانِ، وَعَلَى الْجَارِيَةِ شَاةٌ» قَالَتْ: قُلْتُ: وَمَا الْمُكَافَأَةُ؟ قَالَ: «الْمِثْلَانِ، وَإِنَّ الضَّأْنَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنَ الْمَعْزِ، ذُكْرَانُهَا أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ إِنَاثِهَا رَأْيًا مِنْهُ»
اُم بنوکر زکعبیہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ اُنہوں نے نبی اکرمﷺ سے عقیقہ کے بارے میں دریافت کیا تو آپ نے ارشاد فرمایا: لڑکے کی طرف سے دو برابر کی بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری قربان کی جائے گی ۔ وہ خاتون بیان کرتی ہیں : میں نے دریافت کیا: لفظ مکافات سے کیا مراد ہے ؟ تو آپ نے فرمایا: وہ دونوں ایک دوسرے کی مثل ہوں ویسے بکرے کے مقابلہ میں دنبہ میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے اور مؤنث کے مقابلہ میں مذکر میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے ۔
قُلْتُ: وَمَا الْمُكَافَأَةُ؟ ← «عَلَى الْغُلَامِ شَاتَانِ مُكَافَأَتَانِ، وَعَلَى الْجَارِيَةِ شَاةٌ» ← الْعَقِيقَةِ. ← أُمِّ بَنِي كُرْزٍ الْكَعْبِيَّةِ أَنَّهَا سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ ← حَبِيبَةَ ابْنَةِ مَيْسَرَةَ بْنِ أَبِي خَيْثَمٍ، ← عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · The Aqeeqah Book › Bab Al Aqiqah · Hadith 7953
