مصنف عبدالرزاق · كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِيمَا مَسَّتِ النَّارُ مِنَ الشِّدَّةِ · حديث 665
عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ الْأَخْنَسِ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أُمِّ حَبِيبَةَ فَسَقَتْهُ سَوِيقًا، ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي فَقَالَتْ لَهُ: تَوَضَّأْ يَا ابْنَ أَخِي؟ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «تَوَضَّأْ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ» قَالَ مَعْمَرٌ: قَالَ الزُّهْرِيُّ: بَلَغَنِي، أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ، وَعَائِشَةَ كَانَا يَتَوَضَّآنِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ "
ابو سفیان بن مغیرہ بیان کرتے ہیں : وہ سیدہ اُم حبیبہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تع اُنہوں نے اُن صاحب کو ستو پلوائے پھر وہ اُٹھ کر نماز ادا کرنے لگے تو سیدہ اُم حبیبہ نے اُن سے کہا :اے میرے بھتیجے ! تم وضو کر لو کیونکہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : آگ پر پکی ہوئی چیز کو کھانے کے بعد وضو کر لو ۔
أَبِي سُفْيَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ الأَخْنَسِ ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Purity › Chapter on what came when the fire touched with intensity · Hadith 665
