مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الزَّكَاةِ ‹ بَابُ مَتَى يُخْرَصُ؟ · حديث 7215
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ قَالَ: «كَانُوا يُخْرِصُونَ الثَّمَرَةَ إِذَا طَابَتْ، فَكَانَتْ بُسْرًا، ثُمَّ كَانُوا يُخَلُّونَ بَيْنَهَا، وَبَيْنَ أَهْلِهَا فَيَأْكُلُونَهَا بُسْرًا، وَرُطَبًا، وَتَمْرًا ثُمَّ يَأْخُذُونَ بِذَلِكَ الْخَرْصَ»
ابن سیرین بیان کرتے ہیں: پہلے لوگ پھلوں کی پیداوار کا اندازہ اُس وقت لگا لیتے تھے جب پھل تیار ہونے کے قریب ہوتا تھا پھر وہ اُس پھل اور مالکان کے درمیان جگہ چھوڑ دیتے تھے تاکہ وہ لوگ خشک اور تازہ کھجوروں کا کھا لیں اور وہ لوگ بعد میں اُس اندازہ کے مطابق وصول کر لیتے تھے ۔
ابْنِ سِيرِينَ، ← أَيُّوبَ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Hadith 7215
