مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الزَّكَاةِ ‹ بَابُ يَرُدُّونَ الْفَضْلَ · حديث 7223
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: أَرَأَيْتَ إِنْ خَرَصْتُ نَخْلِي فَبِعْتُهَا بَعْدَ الْخَرْصِ مِنٍ نَاسٍ، فَأَقَمْتُ أَنَا الْبَيِّنَةِ عَلَى أَنَّهَا أَقَلُّ مِمَّا خُرِصَتْ، أَتَرَى أَنْ يَرُدُّوا عَلِيَّ الْفَضْلَ؟ قَالَ: «إِنْ كَانَ الْخَرْصُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَيْسَ لَكَ أَنْ يَرُدُّوا عَلَيْكَ الْفَضْلَ»، قُلْتُ: خَرَصُوا عَلِيَّ نَخْلِي، فَلَمَّا رَفَعْتُ تَمْرِي إِذَا هُوَ يَزِيدُ عَلَى خَرْصِهِمْ، أُؤَدِّي إِلَيْهِمُ الْفَضْلَ؟ قَالَ: «لَا، إِنْ كَانَ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» قَالَ: قُلْتُ: أَرَأَيْتَ إِنْ بِعْتُ ثَمَرَ مَالِي قَبْلَ خُرُوجِ الْخَارِصِ، أَلَهُمْ أَنْ يُعَيْدُوا بَيْعِي، فَيُخْرِصُوا قَالَ: «نَعَمْ، يُخْرِصُونَهُ إِنْ كَانَ الْخَرْصُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، هُوَ أَحَقُّ ذَلِكَ، وَإِلَّا فَقَدْ بِعْتَ لَهُمْ [ص:131]، وَلَكَ، وَإِنْ بَاعَ ثَمَرًا بِذَهَبٍ فَإِنَّمَا الصَّدَقَةُ فِي الثَّمَرِ مَا كَانَ، وَلَيْسَ فِي الذَّهَبِ»
ابن جریح بیان کرتے ہیں: میں نے عطا ء سے دریافت کیا: اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے کہ اگر میں اپنت کھجوروں کی پیداوار کا اندازہ لگاتا ہوں او پھر یہ اندازہ لگانے کے بعد میں کسی شخص کو وہ فروخت کر دیتا ہوں تو کیا میں اس بات کی گواہی دے سکتا ہوں کہ اس کا جو اندازہ لگایا گیا ہے اس کی پیداوار اُس سے کم تھی اور کیا آپ کی یہ رائے ہے کہ ایسی صورت میں وہ لوگ اضافی ادائیگی مجھے واپس کریں گے ؟ اُنہوں نے جواب دیا: نبی اکرمﷺ کے زمانہ اقداس میں یہ اندازہ لگایا جاتا تھا البتہ تمہیں اس بات کا حق حاصل نہیں ہے کہ وہ اضافی چیز کو تمہیں واپس کر دیں ۔ میں نے کہا : لوگ میرے کھجوروں کے باغ میں اندازہ لگا لیتے ہیں جب میں اپنی کھجوریں اُٹھا تا ہوں تو وہ اُن کے انداز سے زیادہ ہوتی ہے تو کیا میں اضافی ادائیگی اُنہیں کروں گا ؟ اُنہوں نے جواب دیا: جی نہیں! نبی اکرمﷺ کے زمانہ اقداس میں ایسا ہوا کرتا تھا ۔میں نے دریافت کیا: اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے کہ اگر میں اندازہ لگانے والے شخص کے آنے سے پہلے اپنی زمین کا پھل فروخت کر دیتا ہوں تو کیا اُنہیں حق حاصل ہو گا کہ وہ میرے سودے کو لعدم قرار دیں اور پھر اندازہ لگائیں؟ اُنہوں نے جواب دیا: جی ہاں! وہ لوگ اندازہ لگائیں گے کیونکہ نبی اکرمﷺ کے زمانہ اقداس میں اندازہ لگایا جاتا تھا اور وہ لوگ اس بات کے زیادہ حقدار تھے ورنہ تم یہ چیز اُنہیں فروخت کر دو گے اور تمہارا حصہ تمہیں مل جائے گا اور اگر کسی شخص نے سونے کے عوض میں پھل کو فروخت کیا ہو تو زکوٰۃ کی ادائیگی پھل میں لازم ہو گی خواہ وہ جتنی بھی ہو سونے میں لازم نہیں ہوگی ۔
قُلْتُ لِعَطَاءٍ: أَرَأَيْتَ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · Zakat Book › Chapter they return the favor · Hadith 7223
