مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ مَنْ سَمِعَ النِّدَاءَ · حديث 1912
عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: قَالَ عَطَاءٌ: وَإِنَّمَا الْأُولَى مِنَ الْأَذَانِ، لِيُؤْذَنَ بِهَا النَّاسُ قَالَ: فَحَقٌّ وَاجِبٌ لَا بُدَّ مِنْهُ، وَلَا يَحِلُّ غَيْرُهُ إِذَا سَمِعَ الْأَذَانَ أَنْ يَأْتِيَ فَيْشَهْدَ الصَّلَاةَ، ثُمَّ أَخْبَرَنِي عِنْدَ ذَلِكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «مَا بَالُ رِجَالٍ يَسْمَعُونَ النِّدَاءَ بِالصَّلَاةِ، ثُمَّ يَتَخَلَّفُونَ؟ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أُقِيمَ الصَّلَاةَ ثُمَّ لَا يَتَخَلَّفُ عَنْهَا أَحَدٌ إِلَّا حَرَّقْتُ بَيْتَهُ، أَوْ حَرَّقْتُ عَلَيْهِ» قَالَ: وَجَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي ضَرِيرٌ وَإِنِّي عَزِيزٌ عَلَيَّ أَنْ لَا أَشْهَدَ الصَّلَاةَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اشْهَدْهَا» قَالَ: إِنِّي ضَرِيرٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: «أَتَسْمَعُ النِّدَاءَ؟» قَالَ: نَعَمْ قَالَ: «فَاشْهَدْهَا»، قُلْتُ: مَا ضَرَرُهُ؟ قَالَ: «حَسِبْتُ أَنَّهُ أَعْمَى، أَوْ [ص:497] سَيِّئُ الْبَصَرِ»، وَسَأَلَ الرُّخْصَةَ فِي الْعَتَمَةِ. قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: «وَأَخْبَرَنِي مَنْ أُصَدِّقُ أَنَّ ذَلِكَ الرَّجُلَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ»
ابن جریح بیان کرتےہیں : عطا ء یہ فرماتے ہیں: اذان کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ اس کے ذریعے لوگوں کو اطلاع دی جائے وہ یہ فرماتے ہیں: یہ لازم حق ہے جس کے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے اور کسی بھی شخص کے لیے یہ بات جائز نہیں ہے جب وہ اذان سنے تو تو پھر نماز میں شریک نہ ہو اُس وقت اُنہوں نے یہ بات بتائی کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے وہ اذان سنتے ہیں اور پھر پیچھے رہ جاتے ہیں میں نے ارادہ کیا کہ جب نماز کھڑی ہو جائے اور پھر جو شخص نماز میں شریک نہ ہوا تو میں اس کے گھر کو جلا دوں۔ میں اُسے جلا دوں۔ راوی بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اُ س نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! میں نابینا ہوں اور میرے نماز میں شریک ہونا بہت مشکل ہے تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم اُس میں شریک ہو ! اُس نے عرض کی : یا رسو اللہ! میں نابینا ہوں نبیا اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اذان سنتے ہو؟ اُس نے کیہا : جی ہاں! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: پھر تم نماز میں شریک ہو ۔ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے دریافت کیا: اُس شخص کو کیا ضرر لاحق تھا ؟ تو اُنہوں نے جواب دیا: میرا خیال ہے یا تو وہ نابینا ہو گا یا پھر اُس کی بینائی انتہائی کمزور ہو گی ۔ پھر اُس شخص نے عشا ء کی نماز کے لیے اجازت مانگی ۔ ابن جریح بیان کرتے ہیں: مجھے اُس شخص نے یہ بات بتائی ہے جس کی میں تصدیق کروں گا کہ وہ نابینا شخص ابن اُم مکتوم تھے ۔
ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · prayer book › Chapter of the person who heard the call · Hadith 1912
