مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ الَّذِي يَكُونُ لَهُ وِتْرٌ وَلِلْإِمَامِ شَفْعٌ · حديث 3175
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ: كَانَ النَّاسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَاءَ الرَّجُلُ وَقَدْ فَاتَهُ مِنَ الصَّلَاةِ شَيْءٌ، أَشَارَ إِلَيْهِ النَّاسُ فَصَلَّى مَا فَاتَهُ، ثُمَّ دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ، حَتَّى جَاءَ يَوْمًا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، فَأَشَارُوا إِلَيْهِ فَدَخَلَ، وَلَمْ يَنْتَظِرْ مَا قَالُوا، فَلَمَّا صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَنَّ لَكُمْ مُعَاذٌ»
عبدالرحمٰن بن ابو لیلیٰ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ کے زمانہ اقداس میں لوگوں کا یہ معمول تھا جب کوئی شخص آتا اور اُس کی نماز کا کچھ حصہ گزر چکا ہوتا تو لوگ اُس کی طرف اشارہ کرتے تھے تو وہ گزرا ہوا حصہ ادا کر لیتا تھا اور پھر نماز میں شامل ہوتا تھا یہاں تک کہ ایک دن حضرت معاذ بن جبل آئے لوگوں نے اُنہیں اشارہ کیا لیکن اُنہوں نے لوگوں کے بیان کا انتظار نہیں کیا اور نماز میں شریک ہو گئے ۔ جب نبی اکرمﷺ نے نماز ادا کر لی تو لوگوں نے آپ ﷺ کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا تو نبی اکرمﷺ نے اُن سے فرمایا : معاذ نے تم لوگوں کے لیے طریقہ مقرر کر دیا ہے ۔
عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← حُصَيْنٍ ← الثَّوْرِيُّ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · prayer book › The door to whom there is a tendon and for Imam Shafa · Hadith 3175
