مصنف عبدالرزاق · كتاب الطهارة ‹ بَابُ كَمِ الْوُضُوءُ مِنْ غَسْلَةٍ · حديث 119
عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى الرُّبَيِّعِ بِنْتِ عَفْرَاءَ، فَقَالَتْ: مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: قُلْتُ: أَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَتْ: فَمَنْ أُمُّكَ؟ قُلْتُ: رَيْطَةُ بِنْتُ عَلِيٍّ - أَوْ فُلَانَةُ بِنْتُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ - قَالَتْ: مَرْحَبًا بِكَ يَا ابْنَ أُخْتِي قُلْتُ: جِئْتُكَ أَسْأَلُكَ عَنْ وُضُوءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصِلُنَا وَيَزُورُنَا، وَكَانَ يَتَوَضَّأُ فِي هَذَا الْإِنَاءِ - أَوْ فِي مِثْلِ هَذَا الْإِنَاءِ - وَهُوَ نَحْوٌ مِنْ مُدٍّ قَالَتْ: «فَكَانَ يَغْسِلُ يَدَيْهِ، وَيُمَضْمِضُ، وَيَسْتَنْثِرُ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ يَدَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ مَرَّتَيْنِ، وَمَسَحَ بِأُذُنَيْهِ ظَاهِرِهِمَا وَبَاطِنِهِمَا، وَغَسَلَ قَدَمَيْهِ ثَلَاثًا». ثُمَّ قَالَتْ: أَمَّا ابْنُ عَبَّاسٍ قَدْ دَخَلَ [ص:38] عَلَيَّ فَسَأَلَنِي، عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: «يَأْبَى النَّاسُ إِلَّا الْغَسْلَ، وَنَجِدُ فِي كِتَابِ اللَّهِ الْمَسْحَ عَلَى الْقَدَمَيْنِ»
عبداللہ بن محمد بیان کرتے ہیں : میں سیدہ ربیع بنت عفرا ء کی خدمت میں حاضر ہوا تو اُنہوں نے دریافت کیا : تم کون ہو ؟ میں نے جواب دیا : میں عبداللہ بن محمدبن عقیل بن ابو طاکب ہوں اُنہوں نے دریافت کیا : تمہاری والدہ کون ہیں ؟میں نے جواب دیا : ریظہ بنت علی ۔ (راوی کو شک ہے شاید یہ کہا: ) فلانہ بنت علی بن ابی طالب ۔ تو سیدہ ربیع بنت عفراء نے کہا :اے میرے بھانجھے ! تمہیں خوش آمدید !میں نے کہا :میں آپ کے پاس اس لیے آیا ہوں تاکہ آپ سے نبی اکرم ﷺ کے وضو کے بارے میں دریافت کروں! تو اُنہوں نے جواب دیا : نبی اکرم ﷺ ہمارے ساتھ سلہ رحمی کرتے تھے آپ ہم سے ملنے کے لیے آیا کرتے تھے تو آپ اس برتن سے(راوی کو شک ہے شاید یہ الفاذ ہیں ) اس برتن جتنے برتن سے وضو کیا کرتے تھے۔ ( راوی کہتے ہیں )اُس میں تقریبا ًً ایک مُد پانی آتا تھا ۔ سیدہ ربیع نے بتایا کہ نبی اکرم ﷺ پہلے دونوں ہاتھ دھوتے تھے پھر آپ کلی کرتے تھے پھر ناک میں پانی ڈالتے تھے پھر اپنے چہرے کو تین پرتبہ دھوتے تھے پھر اپنے بازو کو تین تین مرتبہ دھوتے تھے پھر سر پر دو مرتبہ مسح کیا کرتے تھے پھر اپنے دونوں کان کے اندرونی اور بیرانی حصہ کا مسح کرتے تھے اور پھر دونوں پاؤں تین مرتبہ دھوتے تھے۔ پھر اُس خاتون نے بتایا ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن عباس میرے پاس تشریف لائے تھے اور اس حدیث کے بارے میں دریافت کیا تھا تو میں نے اُنہیں اس بارے میں بتایا تھاحضرت عبداللہ بن عباس نے یہ کہا تھا: لوگ صرف غسل کو مانتے ہین حالانکہ ہمیں اللہ تعالیٰ کی کتاب میں پاؤں پر مسح کرنے کا حکم ملتا ہے ۔
عبد الله بن محمد بن عقيل بن أبي طالب ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Purity › The door for the amount of ablution from a washing machine · Hadith 119
