مصنف عبدالرزاق · كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْوُضُوءِ بِالنَّبِيذِ · حديث 693
عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، وَإِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي فَزَارَةَ الْعَبْسِيِّ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو زَيْدٍ، مَوْلَى عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: لَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ الْجِنِّ تَخَلَّفَ مِنْهُمْ رَجُلَانِ فَقَالَا: نَشْهَدُ الْفَجْرَ مَعَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَعَكَ مَاءٌ؟» قُلْتُ: لَيْسَ مَعِي مَاءٌ، وَلَكِنْ مَعِي إِدَاوَةٌ فِيهَا نَبِيذٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَمْرَةٌ طَيِّبَةٌ، وَمَاءٌ طَهُورٌ فَتَوَضَّأْ». قَالَ إِسْرَائِيلُ فِي حَدِيثِهِ: «ثُمَّ صَلَّى الصُّبْحَ»
حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں : جب جنات اُس رات دو آدمی اُن میں سے پیچھے رہ گئے اُن دونوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم آپ کے ساتھ فجر کی نماز میں شریک ہوں گے تو نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا: کیا تمہارے پاس پانی ہے ؟ میں نے عرض کی میرے پاس پانی نہیں ہے تاہم میرے پاس ایک مشکیزہ ہے۔ جس میں نبیدہ موجود ہے تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :کھجور پاک ہوتی ہے اور پانی کرنے والا ہے تم وضو کرو۔ اسرائیل نامی راوی نے اپنی روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں: پھر نبی اکرم ﷺ نے صبح کی نماز ادا کی ۔
لَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ الْجِنِّ تَخَلَّفَ مِنْهُمْ رَجُلَانِ فَقَالَا: نَشْهَدُ الْفَجْرَ مَعَكَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← أَبُو زَيْدٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، ← أَبِي فَزَارَةَ الْعَبْسِيِّ ← الثَّوْرِيِّ، وَإِسْرَائِيلَ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Purity › The door of ablution by wine · Hadith 693
