مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الزَّكَاةِ ‹ بَابُ لَا يَدْفَعُهَا إِلَيْهِمْ إِذَا لَمْ يُعْطَوْا مِنَ الْمَالِ شَيْئًا · حديث 7182
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْأَعْمَى وَحْدِي، وَأَخْبَرَنَا مَعَ عَطَاءٍ قَالَ: انْطَلَقَ أَبُو حَكِيمٍ إِلَى مَرْوَانَ بِزَكَاةِ مَالِهِ، فَقَالَ لَهُ مَرْوَانُ: «أَفِي عَطَاءٍ أَنْتَ؟» قَالَ: لَا قَالَ: «فَاذْهَبْ بِزَكَاةِ مَالِكَ؛ فَإِنَّا لَا نَأْخُذُهَا مِنْكَ» قَالَ: فَفَرَضَ لَهُ مَرْوَانُ مِنَ الْغَدِ فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: وَلَقِيَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَجُلًا يَحْمِلُ زَكَاةَ مَالِهِ، يُرِيدُ الْإِمَامَ، فَقَالَ: أَبُو هُرَيْرَةَ: «مَا مَعَكَ؟» قَالَ: زَكَاةُ مَالِي أَذْهَبُ بِهَا إِلَى الْإِمِامِ، قَالَ لَهُ: «أَفِي دِيوَانٍ أَنْتَ؟» قَالَ: لَا قَالَ: «فَلَا تُعْطِهِمْ شَيْئًا» فَأَخْبَرَنِي عَطَاءٌ: حِينَئِذٍ قَالَ: بَلَغَنَا ذَلِكَ عَنِ عَلِيٍّ أَنَّهُ جَاءَهُ رَجُلٌ بِزَكَاةِ مَالِهِ، فَقَالَ: «أَتَأْخُذُ مِنْ عَطَائِنَا؟» قَالَ: لَا قَالَ: «فَاذْهَبْ، فَإِنَّا لَا نَأْخُذُ مِنْكَ، لَا نَجْمَعُ عَلَيْكَ، لَا نُعْطِيكَ، وَنَأْخُذُ مِنْكَ» قَالَ: قُلتُ: يَقُولُونَ: لَا تَجِبُ الزَّكَاةُ عَلَى مَنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ دِيوَانٌ قَالَ: " هِيَ، وَاجِبَةٌ عَلَيْهِمْ زَكَاتُهُمْ، وَلَكِنَّهُمْ يَقُولُونَ: لَا نَأْخُذُ مِنْكُمْ، وَلَا نُعْطِيكُمْ، فَتَأْخُذُ فَتُعْطِيهِمْ زَكَاتَهُمْ؛ لِأَنَّهَ لَا يُعْطِيهِمْ مِنَ الْمَالِ شَيْئًا "، قُلْتُ [ص:118] لَهُ: امْرُؤٌ لَهُ رِزْقٌ فِي الْقَمْحِ لَيْسَ لَهُ فِي الْوَرِقِ شَيْءٌ قَالَ: «حَسْبُهُ ذَلِكَ عَطَاءٌ» قَالَ: «تُؤْخَذُ مِنْهُ حِينَئِذٍ زَكَاتُهُ»
ابن جریح بیان کرتے ہیں: ابو سعید نابینا نے مجھے یہ بات بتائی ہے ایک مرتبہ اُنہوں نے مجھے یہ بات بتائی تھی اور ایک مرتبہ عطا ء کے ساتھ مجھے یہ بات بتائی وہ بیا ن کرتے ہیں: ابو حکیم نامی ایک صاحب مروان کے پاس اپنے مال کی زکوٰۃ لے کے گئے تو مروان نے اُن سے دریافت کیا : آپ کو سرکاری طور پر کوئی تنخواہ ملتی ہے ؟ اُنہوں نے جواب دیا: جی نہیں! تو مروان نے کہا: تو پھر آپ اپنے مال کی زکوٰۃ لے جائیں کیونکہ یہ ہم یہ آپ سے نہیں لیں گے ۔ راوی کہتے ہیں: تو پھر اگلے دن مروان نے اُن کے لیے سرکاری وظیفہ مقرر کیا ۔ تو ابو سعید نامی راوی نے یہ بات بیان کی : حضرت ابو ہریرہ کی ملقات ایک شخص سے ہوئی تو اپنے مال کی زکوٰۃ کو لاد رہا تھا وہ اسے حاکم وقت تک پہنچانا چاہ رہا تھا ۔ حضرت ابو ہریرہ نے اُن سے دریافت کیا: تمہارے پاس کیا ہے ؟ اس نے جواب دیا: یہ میرے مال کی کوٰۃ ہے جسے میں حاکم وقت تک لے جا رہا ہوں ۔ تو حضرت ابو ہریرہ نے اس سے دریافت کیا: کیا تمہارا نام دیوان میں نوٹ ہے ۔ اس نے جواب دیا : جی نہیں! تو حضرت ابو ہریرہ نے فرمایا : پھر تم کو کوئی ادائیگی نہ کرو ۔ ا س موقع پر عطا ء نے مجھ سے فرمایا: حضرت علی کے بارے میں ہم تک یہ روایت پہنچی ہے کہ جب کوئی شخص ان کے پاس اپنے مال کی زکوٰۃ لے کر آتا تو وہ دریافت کرتے : کیا تم ہم سے کوئی وظیفہ لیتے ہو ؟ اگر وہ شخص جواب دیا: جی نہیں! تو حضرت علی فرماتے : تم جاؤ ہم تم سے کوئی وصول نہیں کریں گے جبکہ ہم نہ تو تمہارے لیے جمع کرتے ہیں ۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ ہم تمہیں کچھ نہ دیں اور تم سے وصولی کریں ۔ میں نے اُن سے دریافت کیا: ایک شخص کو وظیفہ گندم کی شکل میں ملتا ہے اسے چاندی کی شکل میں کچھ نہیں ملتا تو اُنہوں نے جواب دیا: تنخواہ ہونے کے حوالے سے یہ چیز بھی اس لیے کافی ہے ایسی صورت میں اس سے زکوٰۃ وصول کی جائے گی۔
عَلِيٍّ، ← بَلَغَنَا ذَلِكَ ← عَطَاءٌ حِينَئِذٍ ← «فَلَا تُعْطِهِمْ شَيْئًا». ← لَا۔ ← لَهُ: «أَفِي دِيوَانٍ أَنْتَ؟» ← زَكَاةُ مَالِي، أَذْهَبُ بِهَا إِلَى الْإِمَامِ. ← أَبُو هُرَيْرَةَ: «مَا مَعَكَ؟» ← لَقِيَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَجُلًا يَحْمِلُ زَكَاةَ مَالِهِ، يُرِيدُ الْإِمَامَ، ← أَبُو سَعِيدٍ ← فَفَرَضَ لَهُ مَرْوَانُ مِنَ الْغَدِ ← لَا نَأْخُذُهَا مِنْكَ» ← «فَاذْهَبْ بِزَكَاةِ مَالِكَ؛ ← لَا۔ ← لَهُ مَرْوَانُ: «أَفِي عَطَاءٍ أَنْتَ؟» ← انْطَلَقَ أَبُو حَكِيمٍ إِلَى مَرْوَانَ بِزَكَاةِ مَالِهِ، ← مَعَ عَطَاءٍ ← أَبُو سَعِيدٍ الْأَعْمَى وَحْدِي، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · Zakat Book › Door He does not pay it to them if they are not given anything of the money · Hadith 7182
