مصنف عبدالرزاق · كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَسِّ الصَّلِيبِ · حديث 461
عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمَارٍ الدُّهْنِيِّ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ، أَوْ غَيْرِهِ، أَنَّ عَلِيًّا، اسْتَتَابَ الْمُسْتَوْرِدَ الْعِجْلِيَّ وَهُوَ يُرِيدُ الصَّلَاةَ وَقَالَ: «إِنِّي أَسْتَعِينُ بِاللَّهِ عَلَيْكَ» فَقَالَ: وَأَنَا أَسْتَعِينُ الْمَسِيحَ عَلَيْكَ قَالَ: فَأَهْوَى عَلِيٌّ بِيَدِهِ إِلَى عُنُقِهِ فَإِذَا هُوَ بِصَلِيبٍ فَقَطَعَهَا، فَلَمَّا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ قَدَّمَ رَجُلًا وَذَهَبَ، ثُمَّ أَخْبَرَ النَّاسَ أَنَّهُ لَمْ يُحْدِثْ ذَلِكَ بِحَدَثٍ أَحْدَثَهُ لَكِنَّهُ مَسَّ هَذِهِ الْأَنْجَاسَ فَأَحَبَّ أَنْ يُحْدِثَ مِنْهَا وُضُوءًا "
ابو عمرو شیبانی یا کوئی اور صاحب نے یہ بات بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی نے مستوردعجلی سے توبہ کروائی وہ نماز کے لیے جانا چاہ رہے تھے اُنہوں نے فرمایا ؒ میں تمہارے خلاف اللہ سے مدد طلب کرتا ہوں ! تو مستورد نے کہا: مین تمہارے خلاف حضرت مسیح سے مدد کرتا ہوں! تو حضرت علی نے اپنا ہاتھ اُس لی گردن کی طرف بڑھایا اُس کی گردن میں صلیب موجود تھا حضرت علی نے اُسے کاٹ دیا پھر جب اُنہوں نے نماز شروع کی تو حضرت علی نے کسی شخص کو آگے کیا اور خود تشریف لے گئے پھر اُنہوں نے لوگوں کو بتایا مجھے کوئی حدث لاحق نہیں ہوا تھا بلکے میں نے اُس نجس چیز کو چھو لیاتھا تو مجھے یہ اچھا لگا کہ میں ازسرنو وضو کروں ۔
أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ، أَوْ غَيْرِهِ، ← عَمَّارِ الدُّهْنِيِّ، ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Hadith 461
