مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ الْبَغْيِ فِي الْأَذَانِ، وَالْأَجْرِ عَلَيْهِ · حديث 1852
عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ سُلَيْمَانَ قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى الْبَكَّاءَ يَقُولُ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يَسْعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ وَمَعَهُ نَاسٌ فَجَاءَهُ رَجُلٌ طَوِيلُ اللِّحْيَةِ فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، إِنِّي لَأُحِبُّكَ فِي اللَّهِ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: «لَكِنِّي أُبْغِضُكَ فِي اللَّهِ»، فَكَأَنَ أَصْحَابَ ابْنِ عُمَرَ لَامُوهُ وَكَلَّمُوهُ، فَقَالَ: «إِنَّهُ يَبْغِي فِي أَذَانِهِ، وَيَأْخُذُ عَنْهُ أَجْرًا»
یحییٰ بکا ء بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت عبداللہ بن عمر کو صفی اور مروہ کے درمیان سعی کرتے ہوئے دیکھا اُن کے ساتھ کچھ لوگ بھی تھے ایک لمبی داڑھی والا شخص اُن کے پاس آیا اور بولا : اے عبدالرحمٰن! میں اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے آپ سے محبت کرتا ہوں تو حضرت عبداللہ بن عمر نے فرمایا: لیکن میں تمہیں اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے تمہیں نا پسند کرتا ہوں۔ بعد میں شاید حضرت عبداللہ بن عمر کے ساتھیوں نے اُنہیں گزارش کی اور اُن کے ساتھ اس بارے میں باے چیت کی تو اُنہوں نے فرمایا: یہ شخص اذان کا معاوضہ وصول کرتا ہے اور اس کا اجر لیتا ہے ۔
ابْنُ عُمَرَ: «لَكِنِّي أُبْغِضُكَ فِي اللَّهِ»، فَكَأَنَ أَصْحَابَ ابْنِ عُمَرَ لَامُوهُ وَكَلَّمُوهُ، ← يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، إِنِّي لَأُحِبُّكَ فِي اللَّهِ، ← رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يَسْعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ وَمَعَهُ نَاسٌ فَجَاءَهُ رَجُلٌ طَوِيلُ اللِّحْيَةِ ← يَحْيَى الْبَكَّاءِ ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · prayer book › Chapter on prostitution in the ears, and the reward for it · Hadith 1852
