مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ بَوْلِ الصَّبِيِّ · حديث 1485
عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أُمِّ قَيْسِ بِنْتِ مِحْصَنٍ الْأَسَدِيَّةِ أُخْتِ عُكَّاشَةَ قَالَتْ: جَاءَتْ بَابْنٍ لَهَا قَدْ أَعْلَقَتْ عَلَيْهِ تَخَافُ أَنْ يَكُونَ بِهِ الْعُذْرَةُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلَى مَاذَا تَدْغَرُونَ أَوْلَادَكُمْ بِهَذِهِ الْعِلَقِ؟ عَلَيْكُمْ بِهَذَا الْعُودِ الْهِنْدِيِّ ـ يَعْنِي الْكُسْتَ ـ فَإِنَّ فِيهِ أَرْبَعَةَ أَشْفِيَةٍ، مِنْهَا ذَاتُ الْجُنُبِ» ثُمَّ أَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَبِيَّهَا، فَوَضَعَهُ فِي حِجْرِهِ فَبَالَ عَلَيْهِ فَدَعَا بِمَاءٍ فَنَضَحَهُ وَلَمْ يَكُنِ الصَّبِيُّ بَلَغَ أَنْ يَأْكُلَ الطَّعَامَ. قَالَ الزُّهْرِيُّ: فَيُسْتَعَطُ [ص:380] لِلْعُذْرَةِ، وَيُلَدُّ مِنْ ذَاتِ الْجُنُبِ، قَالَ الزُّهْرِيُّ: فَمَضَتِ السُّنَّةُ أَنْ يُرَشَّ بَوْلُ الصَّبِيِّ وَيُغْسَلُ بَوْلُ الْجَارِيَةِ
سیدہ اُم قیس بنت محصن اسدیہ جو حضرت عکاشہ کی بہن ہیں وہ بیان کرتی ہیں: میں اپنے بیٹے کو ساتھ لے کر آئی جس کا میں نے گلا ملا تھا مجھے یہ اندیشہ تھا اس کت گلے میں تکلیف ہے تو نبی اکرم ﷺ نےفرمایا: کیا وجہ ہے تم اس طرح مل کر اپنے بچے کو تکلیف پہنچاتی ہے تم پر عود ہندی کو استعمال کرنا لازم ہے ۔ نبی اکرم ﷺ کی مراد کست تھی اس میں چار چیزوں سے شفا ہے جس میں سے ایک ذات الجنب کی بیماری بھی ہے ۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے اُس خاتون کے بچے کو گود سے پکڑا اور اُسے اپنی گود میں بیٹھا لیا تو اُس نے نبی اکرمﷺ پر پیشاب کر دیا نبی اکرم ﷺ نے پانی منگوا پر اُس پر چھڑک دیا اُسے بچے کی عمر اتنی نہیں ہوئی تھی کہ وہ کچھ کھانا شروع کر دیتا ۔ امام زہری فرماتے ہیں: اس بوٹی کو گلے کی بیماری کی تکلیف کے لیے سونگاہ جاتا ہے اور ذات الجنب کی بیماری میں منہ میں ڈالا جاتا ہے ۔
أم قيس بنت مِحْصَن الأسدية -أخت عكاشة- ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Hadith 1485
