مصنف عبدالرزاق · كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْمَضْمَضَةِ مِمَّا أُكِلَ مِنَ الْفَاكِهَةِ وَمَا مَسَّتِ النَّارُ · حديث 679
عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: أَكُنْتَ مُتَوَضِّئًا مِنَ اللَّحْمِ وَغَاسِلَ يَدِكَ مِنْ أَثَرِهِ؟ قَالَ: «نَعَمْ» قُلْتُ: بِأُشْنَانٍ أَوْ بِمَاءٍ؟ قَالَ: «بَلْ بِالْمَاءِ إِنَّمَا الْأُشْنَانُ شَيْءٌ أَحْدَثُوهُ»، قُلْتُ: أَفَرَأَيْتَ الْوَدَكَ سَمْنًا، أَوْ رُبًّا، أَوْ وَدَكًا أَكَلْتَ مِنْهُ أَكُنْتَ غَاسِلَ يَدِكَ مِنْهُ، أَوْ مُتَمَضْمِضًا؟ قَالَ: «لَا»، قُلْتُ: فَمِنْ خُبْزٍ وَحْدَهُ؟ قَالَ: «وَلَا أُمَضْمِضُ مِنْهُ وَلَا أَغْسِلُ يَدَيَّ»
ابن جریح بیان کرتے ہیں : میں نے عطاء سے دریافت کیا : کیا آپ گوشت کھانے کے بعد ازسرنو وضو کریں گے اور اُس کے بعد ہاتھ دھوئیں گے؟ اُنہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! میں نے کہا : صابن کے ذریعہ یا پانی کے ذریعے ؟ اُنہوں نے فرمایا : بلکہ صرف پانی کے ذریعےکیونکہ صابن ایک ایسی چیز ہے جو لوگوں نے بعد میں ایجاد کی ہے ۔ میں نے کہا : چربی یا گھی یا رُب کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے آپ اُسے کھا لیتے تھے اس کے بعد آپ اپنے ہاتھ کو دھوئیں گے یا کلی کریں گے؟ اُنہوں نے جواب دیا : جی نہیں ! میں نے دریافت کیا : تو کیا صرف روٹی کی وجہ سے کریں گے؟ اُنہوں نے فرمایا : میں نہ تو اُس کی وجہ سے کلی کروں گا اور نہ ہاتھ دھوؤں گا ۔
ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Hadith 679
