مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ قِرَاءَةِ السُّوَرِ فِي الرَّكْعَةِ · حديث 2842
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الْكَرِيمِ، عَنْ [ص:147] سَعِيدٍ، وَكَانَ أَبُوهُ غُلَامًا لِحُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ، فَأَخْبَرَهُ عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ، أَنَّهُ مَرَّ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً وَهُوَ يُصَلِّي فِي الْمَسْجِدِ فِي الْمَدِينَةِ قَالَ: فَقُمْتُ أُصَلِّي وَرَاءَهُ يُخَيَّلُ إِلَيَّ أَنَّهُ لَا يَعْلَمُ، فَاسْتَفْتَحَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ، فَقُلْتُ: إِذَا جَاءَ مِائَةَ آيَةٍ رَكَعَ، فَجَاءَهَا فَلَمْ يَرْكَعْ، فَقُلْتُ: إِذَا جَاءَ مِائَتَيْ آيَةٍ رَكَعَ، فَجَاءَهَا فَلَمْ يَرْكَعْ، فَإِذَا خَتَمَهَا رَكَعَ، فَخَتَمَ فَلَمْ يَرْكَعْ، فَلَمَّا خَتَمَ قَالَ: «اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ، اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ» وِتْرًا ثُمَّ افْتَتَحَ آلَ عِمْرَانَ، فَقُلْتُ: إِنْ خَتَمَهَا رَكَعَ، فَخَتَمَهَا وَلَمْ يَرْكَعْ، وَقَالَ: «اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ» ثُمَّ افْتَتَحَ سُورَةَ الْمَائِدَةِ، فَقُلْتُ: إِذَا خَتَمَ رَكَعَ، فَخَتَمَهَا فَرَكَعَ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ» وَيُرَجِّعُ شَفَتَيْهِ فَأَعْلَمُ أَنَّهُ يَقُولُ غَيْرَ ذَلِكَ، ثُمَّ سَجَدَ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى»، وَيُرَجِّعُ شَفَتَيْهِ فَأَعْلَمُ أَنَّهُ يَقُولُ غَيْرَ ذَلِكَ، فَلَا أَفْهَمُ غَيْرَهُ، ثُمَّ افْتَتَحَ سُورَةَ الْأَنْعَامِ، فَتَرَكْتُهُ وَذَهَبْتُ
حضرت حذیفہ بن یمان بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ وہ رات کے وقت نبی اکرمﷺ کے پاس سے گزرے نبی اکرمﷺ اُس وقت مدینہ مورہ مسجد میں نماز ادا کر رہے تھے ۔ راوی بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرمﷺ کے پیچھے آ کر کھڑا ہو گیا مجھے اندازہ ہوا کہ آپ کو پتا نہیں چل سکا نبی اکرمﷺ نے سورہ بقرہ پڑھنا شروع کی تو میں نے سوچا کہ جب آپ دو سو آیات پڑھ لیں تب رکوع میں چلے جائیں گے لیکن نبی اکرمﷺ اُس مقام پر پہنچ کر رکوع میں نہیں گئے جب آپ نے اس سورت کو مکمل پڑھ لیا تو آپ رکوع میں گئے جب آپ نے اسے ختم کیا تو آپ فوراً رکوع میں نہیں چلے گئے بلکہ آپ نے اسے ختم کرنے کے بعد اسے یہ پڑھا : اے اللہ ! حمد تیرے لیے مخصوص ہے ! اے اللہ! حمد تیرے لیے مخصوص ہے آپ نے اسے طاق تعداد میں پڑھا ۔ پھر آپ نے سورہ آل عمران پڑھنا شروع کی میں نے سوچا آپ اسے ختم کر کے رکوع میں جائیں گے آپ نے اسے ختم کر لیا لیکن رکوع میں نہیں گئے آپ نے تین مرتبہ الھم لک الحمد پڑھا پھر آپ نے سورہ مائدہ پڑھنا شروع کی میں نے سوچا جب آپ اسے ختم کریں گے تو رکوع میں چلے جائیں گے نبی اکرمﷺ نے اسے ختم کیا پھر رکوع مین چلے گئے تو میں نے آپ کو سبحانک ربی العظیم پڑھتے ہوئے سنا آپ اپنے ہونٹوں کو یوں حرکت دے رہے تھے جس سے مجھے اندازہ ہوا کہ آپ شاید اس کے علاوہ کچھ اور کلمات بھی پڑھ رہے ہیں لیکن مجھے اس کے علاوہ کسی دوسرے کلمے کی سمجھ نہیں آئی پھر نبی اکرمﷺ نے سورہ انعام پڑھنی شروع کی تو میں نے آپ کو ترک کیا اور چلا گیا ۔
حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ ← سَعِيدٍ، وَكَانَ أَبُوهُ غُلَامًا لِحُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ، ← عَبْدِ الْکَرِيمِ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Hadith 2842
