مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ ‹ بَابُ الْأَذَانِ لَهُمَا · حديث 5627
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَا: «لَمْ يَكُنْ يُؤَذَّنُ يَوْمَ الْفِطْرِ وَلَا يَوْمَ الْأَضْحَى» ثُمَّ سَأَلْتُهُ بَعْدَ حِينٍ عَنْ ذَلِكَ فَأَخْبَرَنِي قَالَ: أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ «أَنْ لَا أَذَانَ لِلصَّلَاةِ يَوْمَ الْفِطْرِ حِينَ يَخْرُجُ الْإِمَامُ، وَلَا بَعْدَ أَنْ يَخْرُجَ وَلَا إِقَامَةَ وَلَا نِدَاءَ وَلَا شَيءَ» قَالَ: «وَلَا نِدَاءَ يَوْمَئِذٍ، وَلَا إِقَامَةَ»
حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت جابر بن عبداللہ انصاری بیان کرتے ہیں: عید الفطر اور عید الاضحیٰ کے دن اذان نہیں دی جاتی تھی۔ ابن جریح بیان کرتے ہیں: بعد میں میں نے اس بارے میں عطا ء سے دریافت کیا تو اُنہوں نے بتایا کہ حضرت جابر بن عبداللہ انصاری نے مجھے یہ بات بتائی ہے : عید الفطر کے دن جب امام آجائے یا امام کے آنے کے بعد عید الفطر کی نماز کے لیے اذان نہیں دی جائے گی نہ اقامت کہی جائیگی نہ اعلان کیا جائے گا نہ کچھ اور کیا جائے گا ۔ وہ یہ فرماتے ہیں: اُس دن نہ اعلان کیا جائے گا نہ اقامت کہی جائے گی۔
ذَلِكَ ← لَمْ يَکُنْ يُؤَذَّنُ يَوْمَ الْفِطْرِ وَلَا يَوْمَ الْأَضْحَی ثُمَّ سَأَلْتُهُ بَعْدَ حِينٍ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Hadith 5627
