مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ السَّهْوِ وَالصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَائِزِ وَلَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ عَلَى الْجَنَائِزِ شَيْءٌ · حديث 6417
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّهُ كَبَّرَ عَلَى جِنَازَةٍ ثَلَاثًا، ثُمَّ انْصَرَفَ نَاسِيًا، فَتَكَلَّمَ وَكَلَّمَ النَّاسَ " فَقَالُوا: يَا أَبَا حَمْزَةَ إِنَّكَ كَبَّرْتَ ثَلَاثًا قَالَ: «فَصَفُّوا فَفَعَلُوا فَكَبَّرَ الرَّابِعَةَ»
حضرت انس کے بارے میں یہ بات منقول ہے : اُنہوں نے جنازہ پر تین تکبیریں کہیں پھر وہ بھول کر نما ز ختم کر بیٹھے لوگوں نے اس بارے میں بات چیت کی اُنہوں نے لوگوں کے ساتھ بات چیت کی لوگوں نے کہا : اے اب وحمزہ ! آپ نے تین تکبیریں کہی تھیں ۔ راوی کہتے ہیں: پھر اُن لوگوں نے صفیں بنائیں اور حضرت انس نے چوتھی تکبیر کہی ۔
«فَصَفُّوا فَفَعَلُوا فَكَبَّرَ الرَّابِعَةَ» ← يَا أَبَا حَمْزَةَ إِنَّكَ كَبَّرْتَ ثَلَاثًا ← أَنَسٍ أَنَّهُ كَبَّرَ عَلَى جِنَازَةٍ ثَلَاثًا، ثُمَّ انْصَرَفَ نَاسِيًا، فَتَكَلَّمَ وَكَلَّمَ النَّاسَ ← قَتَادَةَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Hadith 6417
