مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْعَقِيقَةِ ‹ بَابُ الْعَقِّ يَوْمَ سَابِعِهِ وَالْحَلْقِ وَالتَّسْمِيَةِ وَالذَّبْحِ وَالدَّمِ · حديث 7969
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءً يَقُولُ: «يُعَقُّ عَنْهُ يَوْمَ سَابِعِهِ، فَإِنْ أَخْطَأَهُمْ، فَأَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ يُؤَخِّرُوهُ إِلَى السَّابِعِ الْآخَرِ» قَالَ: «وَرَأَيْتُ النَّاسَ يَتَحَرَّوْنَ بِالْعَقِّ عَنْهُ يَوْمَ سَابِعِهِ» قَالَ: «يَأْكُلُ أَهْلُ الْعَقِيقَةِ، وَيُهْدُونَهَا»، قُلْتُ لَهُ: أَسُنَّةٌ؟ قَالَ: «قَدْ أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ، زَعَمُوا»، قُلْتُ: أَتَصَدَّقُ؟ قَالَ: «لَا، إِنْ شِئْتَ كُلْ وَأَهْدِ»، قِيلَ: أَمَذْبُوحَتَانِ؟ قَالَ: «لَا، إِلَّا قَائِمَتَانِ»
ابن عیینہ بیان کرتے ہیں: میں نے عطا ء کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے : بچہ کی پیدائش کے ساتویں دن اُس کی طرف سے عقیقہ کیا جائے گا اگر لوگ اُسے نہیں کر پاتے تو یہ چیز میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے کہ وہ اگلے سات دن تک اسے مؤخر کر دیں تاہم میں نے لوگوں کو دیکھا ہے کہ وہ اہتمام کے ساتھ پیدائش کے ساتویں دن ہی عقیقہ کرتے ہیں اُنہوں نے بتایا کہ عقیقہ کے کھانے میں شری ہونے والے لوگ اُس کا گوشت کھائیں گے اور وہ گوشت تحفہ کے طور پر بھی دیا جائے گا ۔ میںنے اُن سے دریافت کیا : کیا یہ سنت ہے ؟ اُنہوں نے جواب دیا: نبی اکرمﷺ نے اس بات کا حکم دیا ہے ۔ میں نے دریافت کیا : کیا میں اُسے صدقہ کر سکتا ہوں ؟ اُنہوں نے جواب دیا: جی نہیں! اگر تم چاہو تو تم خود کھاؤ یا پھر اُسے تحفہ کے طور پر کسی کو دے دو ۔ اُن سے دریافت کیا گیا: کیا یہ دونوں ذبح شدہ ہوں گے ؟ اُنہوں نے جواب دیا: جی نہیں! یہ دونوں کھڑے ہوئے ہوں گے ۔
عَطَاءٍ، ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · The Aqeeqah Book › Bab al-Aqiq on the seventh day, and the shave, the name, the slaughter, and the blood · Hadith 7969
