مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الثَّوْبِ يُصْبَغُ بِالْبَوْلِ · حديث 1493
عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ قَالَ: هَمَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، أَنْ يَنْهَى عَنِ الْحِبَرَةِ مِنْ صِبَاغِ الْبَوْلِ " فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: أَلَيْسَ قَدْ رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ لَبِسَهَا؟ قَالَ: عُمَرُ: «بَلَى»، قَالَ الرَّجُلُ: أَلَمْ يَقُلِ اللَّهُ: {لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ} [الأحزاب: 21] فَتَرَكَهَا عُمَرُ
قتادہ فرماتے ہیں: ایک مرتبہ حضرتب عمر بن خطاب نے حبرہ کو استعمال کرنے کا ارادہ کیا جسے پیشاب کے ذریعے رنگا جاتا ہے تو ایک شخص نے کہا کہ آپ نے نبی اکرمﷺ کو نہیں دیکھا کہ اُنہوں نے یہ چادر پہنی تھی ۔ تو حضرت عمر نے فرمایا: جی ہاں! تو اس شخص نے کہا : کیا اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمایا: تمہارے لیے اللہ کے رسول کے طریقہ میں بہترین نمونہ ہے ۔ تو حضرت عمر نے اسے ترک کر دیا ۔
عُمَرُ: «بَلَى». ← لَهُ رَجُلٌ: أَلَيْسَ قَدْ رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ قَدْ لَبِسَهَا؟ ← الْحِبَرَةِ مِنْ صِبَاغِ الْبَوْلِ ← هَمَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، أَنْ يَنْهَى ← قَتَادَةَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Hadith 1493
