مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ · حديث 2906
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ قَالَ: " سُنَّةٌ إِذَا رَفَعْتَ رَأْسَكَ مِنَ الرَّكْعَةِ أَوِ السَّجْدَةِ فَانْتَصِبْ حَتَّى يَرْجِعَ كُلُّ عَظْمٍ مِنْهَا مِفْصَلَهُ، فَإِذَا فَعَلْتَ فَحَسْبُكَ، وَقَدْ كَانَ يُقَالَ: فَلَا أَدْرِي أَقَالَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ مَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ فَانْتَصَبَ قُلْ: اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ، لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَعْصِمُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ "
عطا ء فرماتے ہیں: سنت یہ ہے جب تم رکوع یا سجدہ سے سر اُٹھاؤ تو سیدھے کھڑے ہو جاؤ یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنے جوڑ کی جگہ پر آجائے جب تم ایسا کر لو گے تو یہ تمہارے لیت کافی ہو گا ۔ یہ بات بیان کی جاتی ہے مجھے نہیں معلوم کہ یہ بات نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمائی ہے ؟ کہ جب آدمی رکوع سے سر اُٹھائے اور سیدھا کھڑا ہو جائے تو پھر تم یہ پڑھو : اے اللہ ! اے ہمارے پروردگار ! حمد تیرے لیے مخصوص ہے جو آسمانوں کو بھرنے جتنی ہو زمین کو بھرنے جتنی ہو اور اس کے بعد جسے تو چاہے اُسے بھرنے والی ہے جسے تو عطا ء کر دے اُسے کوئی روکنے والا نہیں ہے جسے تو نہ دے اسے کوئی دینے والا نہیں ہے اور صاحب حیثیت شخص کی حیثیت تیری مرضی کے سامنے کام نہیں آ سکتی ۔
عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Hadith 2906
