مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ الرَّجُلِ يُصَلِّي فِي الْمَضْرِبَةِ، وَالْحِلَقِ · حديث 1523
عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: قُلْنَا لِعَطَاءٍ: يُصَلِّي فِي الْمَضْرِبَةِ الَّتِي يَرْمِي الْإِنْسَانُ، وَهِيَ عَلَيْهِ، وَالْحِلَقِ؟ قَالَ: «يَنْزَعْهُمَا»، قُلْنَا: إِنَّ فِي ذَلِكَ عَنَاءٌ فِي رَبْطِ الْمَضْرِبَةِ قَالَ: «وَلَوْ إِنَّمَا هِيَ الْمَكْتُوَبَةُ، وَإِنْ صَلَّى فِيهِمَا فَلَا حَرَجَ، وَأَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ لَا يَفْعَلَ» قَالَ: قُلْتُ لَهُ: مَا الْمَضْرِبَةُ؟ قَالَ: «هِيَ النَّدْوَةُ»، قُلْنَا: فَالْحِلَقُ؟ قَالَ: «الْأَصَابِعُ الَّتِي تَكُونُ فِي الْأَصَابِعِ إِذَا رُمِيَتْ»
ابن جریح بیان کرتے ہیں: میں نے عطا ء سے دریافت کیا : کیا کوئی شخص مضربہ پہن کر نماز ادا کر سکتا ہے جسے آدمی اُس وقت پہنتا ہے جب وہ تیر اندازی کر رہا ہوتا ہے یا حلق پہن کر نماز ادا کر سکتا ہے ؟ تو عطا ء نے جواب دیا : وہ اُن دونوں کو اُتار دے گا ۔ہم نے دریافت کیا : اگر اُسے کو باندھنے میں مشکل ہو تو ؟ اُنہوں نے فرمایا: خواہ مشکل ہو بھی کیونکہ یہ فرض نماز ہے اور اگر آدمی اُنہیں پہن کر نماز ادا کر لیتا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن مجھے یہ بات پسند ہے آدمی ایسا نہ کرے ۔ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے اپنے اُستاد سے دریافت کیا : مضربہ کیا ہے ؟ اُنہوں نے جواب دیا: ندوہ۔ ہم نے دریافت کیا : حلق سے کیا مراد ہے ؟ اُنہوں نے جواب دیا : وہ اُنگلیاں جو آدمی تیر اندازی کرتے وقت اپنی اُنگلیوں میں پہنتا ہے ۔
«يَنْزَعْهُمَا»، قُلْنَا: ← قُلْنَا لِعَطَاءٍ: يُصَلِّي فِي الْمَضْرِبَةِ الَّتِي يَرْمِي الْإِنْسَانُ، وَهِيَ عَلَيْهِ، وَالْحِلَقِ؟ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Hadith 1523
