مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ ‹ بَابُ اجْتِمَاعِ الْعِيدَيْنِ · حديث 5725
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: قَالَ عَطَاءٌ: «إِنِ اجْتَمَعَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ وَيَوْمُ الْفِطْرِ فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ فَلْيَجْمَعْهُمَا فَلْيُصَلِّ رَكْعَتَيْنِ قَطُّ حَيْثُ يُصَلِّي صَلَاةَ الْفِطْرِ ثُمَّ هِيَ هِيَ حَتَّى الْعَصْرِ» ثُمَّ أَخْبَرَنِي عِنْدَ ذَلِكَ قَالَ: " اجْتَمَعَ يَوْمُ فِطْرٍ وَيَوْمُ جُمُعَةٍ فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ فِي زَمَانِ ابْنِ الزُّبَيْرِ، فَقَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ: عِيدَانِ اجْتَمَعَا فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ فَجَمَعَهُمَا جَمِيعًا بِجَعْلِهِمَا وَاحِدًا، وَصَلَّى يَوْمَ الْجُمُعَةِ رَكْعَتَيْنِ بُكْرَةَ صَلَاةَ الْفِطْرِ، ثُمَّ لَمْ يَزِدْ عَلَيْهَا حَتَّى صَلَّى الْعَصْرَ ". قَالَ: «فَأَمَّا الْفُقَهَاءُ فَلَمْ يَقُولُوا فِي ذَلِكَ، وَأَمَّا مَنْ لَمْ يَفْقَهْ فَأَنْكَرَ ذَلِكَ عَلَيْهِ». قَالَ: «وَلَقَدْ أَنْكَرْتُ أَنَا ذَلِكَ عَلَيْهِ وَصَلَّيْتُ الظُّهْرَ يَوَمَئِذٍ». قَالَ: «حَتَّى بَلَغَنَا بَعْدُ أَنَّ الْعِيدَيْنِ كَانَا إِذَا اجْتَمَعَا كَذَلِكَ صُلِّيَا وَاحِدَةً»، وَذُكِرَ ذَلِكَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ أَخْبَرَ أَنَّهُمَا كَانَا يَجْمَعَانِ إِذَا اجْتَمَعَا. قَالَا: إِنَّهُ وَجَدَهُ فِي كِتَابٍ لِعَلِيٍّ، زَعَمَ
عطا ء فرماتے ہیں : اگر جمعہ کا دن اور عید الفطر کا دن ایک ہی دن میں آجائے تو آدمی ان دونوں نمازوں کو جمع کر لے گا اور وہ صرف دو رکعت ادا کرے گا اُس وقت جب وہ نماز عید الفطر ادا کرے گا پھر وہ ایسے ہی رہے گا یہاں تک کہ عصر کا وقت آجائے ۔ اُس موقع پر اُنہوں نے یہ بات بتائی کہ ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن ز بیر کے زمانہ میں عید الفطر اور جمعہ کا دن ایک ہی دن آگئے تو حضرت عبداللہ بن زبیر نے فرمایا: ایک ہی دن میں دو عیدیں اکٹھی ہو گئی ہیں۔ تو حضرت عبداللہ بن زبیر ان دنوں کو ملایا اور ان دونوں کو ایک ہی قرار دیا پھر اُنہوں نے دن کے وقت جمعہ کے دن عید الفطر کی نماز ادا کی اور پھر عصر کی نماز تک مزید کوئی اور نماز ادا نہیں کی ۔ راوی بیان کرتے ہیں: جہاں تک فقہا ء کا تعلق ہے تو وہ اس بات کے قائل نہیں ہیں اور جہاں تک اُس شخص کا تعلق ہے جو سمجھ بوجھ نہیں رکھتا وہ اس کا انکار کرتا ہے ۔ عطا ء نے یہ بھی کہا : میں خود اس بات کا انکار کرتا ہون اور میں اُس دن میں ظہر کی نماز بھی ادا کروں گا ۔ وہ یہ فرماتے ہیں کہ بعد میں مجھ تک یہ روایت پہنچی کہ جب دو عیدیں اکھٹی ہو جائیں تو اسی طرح ایک مرتبہ نماز ادا کی جائے گی ۔ پھر یہ بات امام محمد باقر کے حوالے سے ذکر کی گئی کہ اُنہوں نے یہ بات بتائی ہے : جب دو عیدیں اکھٹی ہو جائیں تو ان دونوں کو جمع کر لیا جائے گا ان دونوں حضرات کا یہ کہنا تھا: یہ بات حضرت علی کی تحریر میں موجود ہے ۔
عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · The two Eid prayers book › Chapter of the two festivals meeting · Hadith 5725
