مصنف عبدالرزاق · كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْمَذْيُ · حديث 597
عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: قَالَ قَيْسٌ لِعَطَاءٍ: أَرَأَيْتَ الْمَذْيَ أَكُنْتَ مَاسِحُهُ مَسْحًا قَالَ: لَا، الْمَذْيُ أَشَدُّ مِنَ الْبَوْلِ، يُغْسَلُ غَسْلًا، ثُمَّ أَنْشَأَ يُخْبِرُنَا حِينَئِذٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَائِشُ بْنُ أَنَسٍ أَخُو سَعْدِ بْنِ لَيْثٍ قَالَ: تَذَاكَرَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ وَعَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ وَالْمِقْدَادُ بْنُ الْأَسْوَدُ الْمَذْيَ، فَقَالَ عَلِيٌّ: إِنِّي رَجُلٌ مَذَّاءٌ، فَاسْأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ ذَلِكَ، فَإِنِّي أَسْتَحْيِي أَنْ أَسْأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ لِمَكَانِ ابْنَتِهِ مِنِّي، لَوْلَا مَكَانُ ابْنَتِهِ لَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: عَائِشُ فَسَأَلَ أَحَدُ الرَّجُلَيْنِ عَمَّارٌ أَوِ الْمِقْدَادُ، قَالَ قَيْسٌ: فَسَمَّى لِي عَائِشٌ الَّذِي سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ ذَلِكَ مِنْهُمَا، فَنَسِيتُهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ذَلِكُمُ الْمَذْيُ، إِذَا وَجَدَهُ أَحَدُكُمْ فَلْيَغْسِلْ ذَلِكَ مِنْهُ، ثُمَّ لِيَتَوَضَّأْ فَلْيُحْسِنْ وُضُوءَهُ، ثُمَّ لِيَنْتَضِحْ فِي فَرْجِهِ». قَالَ [ص:156]: فَسَأَلْتُ عَطَاءً، عَنْ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَغْسِلُ ذَلِكَ مِنْهُ قَالَ: حَيْثُ الْمَذْيُ يَغْسِلُ مِنْهُ أَمْ ذَكَرَهُ كُلَّهُ؟ فَقَالَ: «بَلْ حَيْثُ الْمَذْيُ مِنْهُ قَطْ»
ابن جریح بیان کرتے ہیں : قیس نے عطا ء سے دریافت کیا : مذی کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ کیا آپ صرف اُسے پونچھ لیں گے ؟ اُنہوں نے جواب دیا :جی نہیں ! کیونکہ مذی پیشاب سے زیادہ گاڑھی ہوتی ہے اُسے دھویا جائے گا پھر اُنہوں نے اس بارے میں ہمیں بتایا کہ آئش بن انس جو سعد بن لیث کے بھائی ہیں اُنہوں نے یہ بات بتائی کہ کہ ایک مرتبہ حضرت علی بن ابو طالب حضرت عمار بن یاسراور حضرت مقدای بن اسود مذی کے بارے میں گفتگو کر رہے تھے تو حضرت علی نے فرمایا : میں ایک ایسا شخص ہوں جس کی مذی بکثرت خارج ہوتی ہے تم لوگ اس بارے میں نبی اکرم ﷺ سے دریافت کرو کیونکہ مجھے نبی اکرم ﷺ سے اس بارے میں سوال کرتے ہوئے شرم آتی ہے کیانکہ نبی اکرم ﷺ کی صاحبزادی میری اہلیہ ہیں اگر نبی اکرم ﷺ کی صاحبزادی کے حوالے سے تعلق نہ ہوتا تو میں خود نبی اکرم ﷺ سے سوال کرتا ۔عائش نامی راوی نےیہ بات بیان کی ہے : اُن دونوں صاحبان یعنی حضرت عمار یا شاید حضرت مقداد ان دونوں میں سے کسی نے ایک سوال کیا ۔ قیس نامی راوی بیان کرتے ہیں : عائش نامی راوی نے میرے سامنے اُن صاحب کا نام بھی لیا تھا جن صاحب نے ان دونوں میں سے نبی اکرم ﷺ سے سوال کیا تھالیکن مجھے اُن کا نام بھول گیا ہے ۔ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :یہ مذی ہے جب کوئی شخص اسے پائے تو اُس جگہ کو دھو لے اور پھر وضو کرےاور اچھی طرح وضو کرےاور پھر اپنی شرمگاہ پر پانی چھڑک لے ۔راوی کہتے ہیں : میں نے عطا ء سے نبی اکرم ﷺ کے اس فرمان کے بارے میں دریافت کیا کہ وہ اُس سے اسے دھو لے ۔ تو کیا اس سے مراد یہ ہے کہ جہاں مذی لگی ہوئی ہے صرف اسی جگہ کو دھونا ہے یا پوری شرمگاہ کو دھونا ہے ۔ اُنہوں نے فرمایا : جی نہیں ! صرف اُس جگہ کو دھونا ہے جہاں مذی لگی ہے ۔
«بَلْ حَيْثُ الْمَذْيُ مِنْهُ قَطْ» ← حَيْثُ الْمَذْيُ يَغْسِلُ مِنْهُ أَمْ ذَكَرَهُ كُلَّهُ؟ ← قَوْلِ النَّبِيِّ يَغْسِلُ ذَلِكَ مِنْهُ ← فَسَأَلْتُ عَطَاءً ← ذَلِكَ مِنْهُمَا، فَنَسِيتُهُ ← قَيْسٌ: فَسَمَّى لِي عَائِشٌ الَّذِي سَأَلَ النَّبِيَّ ← عَائِشُ فَسَأَلَ أَحَدُ الرَّجُلَيْنِ عَمَّارٌ أَوِ الْمِقْدَادُ، ← ذَلِكَ لِمَكَانِ ابْنَتِهِ مِنِّي، لَوْلَا مَكَانُ ابْنَتِهِ لَسَأَلْتُهُ، ← ذَلِكَ، فَإِنِّي أَسْتَحْيِي أَنْ أَسْأَلَهُ ← عَلِيٌّ: إِنِّي رَجُلٌ مَذَّاءٌ، فَاسْأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ ← الْمِقْدَادُ بْنُ الْأَسْوَدُ الْمَذْيَ، ← عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ ← تَذَاكَرَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← عَائِشُ بْنُ أَنَسٍ أَخُو سَعْدِ بْنِ لَيْثٍ ← لَا، الْمَذْيُ أَشَدُّ مِنَ الْبَوْلِ، يُغْسَلُ غَسْلًا، ثُمَّ أَنْشَأَ يُخْبِرُنَا حِينَئِذٍ ← قَيْسٌ لِعَطَاءٍ: أَرَأَيْتَ الْمَذْيَ أَكُنْتَ مَاسِحُهُ مَسْحًا ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Purity › The door of Madh · Hadith 597
