مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ الرَّجُلِ يَسْجُدُ مُلْتَحِفًا لَا يُخْرِجُ يَدَيْهِ · حديث 1571
عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: «كَانُوا يُصَلُّونَ فِي مَسَاتِقِهِمْ، وَبَرَانِسِهِمْ، وَطَيَالِسِهِمْ مَا يُخْرِجُونَ أَيْدِيَهُمْ مِنْهَا»، قُلْنَا لَهُ: مَا الْمِسْتَقَةُ؟ قَالَ: «هِيَ جُبَّةٌ يَعْمَلُهَا أَهْلُ الشَّامِ وَلَهَا كُمَّانِ طَوِيلَانِ، وَلَبِنُهَا عَلَى الصَّدْرِ يَلْبَسُونَهَا، وَيَعْقِدُونَ كُمَّيْهَا إِذَا لَبِسُوهَا»
ابراہیم نخعی فرماتے ہیں: پہلے لوگ اپنی چادروں میں اور ٹوپیوں میں اور بڑی چادروں میں سجدہ کر لیتے تھے وہ اپنے ساتھ باہر نہیں نکالتے تھے ۔ ہم نے اُن سے دریافت کیا: مستقہ کیا ہوتا ہے ؟ اُنہوں نے جواب دیا : یہ حبہ ہے جسے اہل شام تیار کرتے تھے اور اس کی طویل آستینیں ہوتی تھی اور ان کے بٹن سینے پر ہوتے ہیں وہ اسے پہنتے ہیں اور جب اسے پہنتے ہیں تو اس کی آستینیں باندھ لیتے ہیں۔
إِبْرَاهِيمَ، ← مُغِيرَةَ، ← الثَّوْرِيُّ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · prayer book › The man’s door kneels into an assembly, not pulling out his hands · Hadith 1571
