مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْحَيْضِ ‹ بَابُ الْعَلَائِقِ · حديث 1347
عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: الْقُرْآنُ كَانَ عَلَى امْرَأَةٍ فَحَاضَتْ أَوْ أَصَابَتْهَا جَنَابَةٌ أَتَنْزَعُهَا؟ قَالَ: «إِذَا كَانَ فِي قَصَبَةٍ فَلَا بَأْسَ» قُلْتُ: فَكَانَ فِي رُقْعَةٍ؟ فَقَالَ: «هَذِهِ أَبْغَضُ إِلَيَّ»، قُلْتُ: فَلِمَ يَخْتَلِفَانِ؟ قَالَ: «إِنَّ الْقَصَبَةَ هِيَ أَكَفُّ مِنَ الرُّقْعَةِ» قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: وَسَمِعْتُهُ قَبْلَ ذَلِكَ يُسْأَلُ: أَيُجْعَلُ عَلَى صَبِيٍّ الْقُرْآنُ؟ قَالَ: «إِذَا كَانَ فِي قَصَبَةٍ مِنْ حَدِيدٍ، أَوْ قَصَبَةٍ مَا كَانَتْ فَنَعَمْ، وَأَمَّا رُقْعَةٌ فَلَا» فَقَالَ: فِي الشَّقِيقَةِ وَهُوَ اللَّوْحُ فِي قِلَادَةِ الصَّبِيِّ فَيَقُولُ: «لَا تَطْهُرُ»
ابن جریح بیان کرتے ہیں: میں نے عطا ء سے دریافت کیا : قرآن مجید ایک عورت کے جسم پر تھا اُسے حیض آگیا یا اُسے جنابت لاحق ہو گئی تو کیا وہ اُسے اُتار دے گی ؟ اُنہوں نے جواب دیا اگر وہ منڈھا ہوا ہو تو پھر اس میں کوئی حرج نہیں ہے میں نے کہا: وہ رقع میں تھا تو اُنہوں نے فرمایا: یہ میرے نزدیک زیادہ نا پسندیدہ ہے میں نے کہا : ان دونوں میں فرق کیا ہے ؟ اُنہوں نے فرمایا : قصبہ رقعہ سے زیادہ محفوظ ہے ۔ابن جریح بیان کرتے ہیں اس سے پہلے میں اُنہیں سن چکا تھا اُن سے دریافت کیا گیا : کیا بچہ جے اوپر قرآن مجید رکھا جا سکتا ہے ؟ اُنہوں نے دریافت کیا اگر تو وہ لوہے کو خول میں ہو یا کسی بھی خول میں ہو تو یہ ٹھیک ہے جہاں تک صرف کاغذ کا تعلق ہے پھر یہ ٹھیک نہیں ہے ۔ اُنہوں نے شقیہ کے بارے مین فرمایا کہ وہ لوح ہوتی ہے جو بچے کے ہار میں ہوتی ہے ۔ تو انہوں نے جواب دیا : یہ پاک نہیں ہوتی ۔
ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Hadith 1347
