مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ النَّافِلَةِ فِي السَّفَرِ · حديث 4443
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: صَلَّى ابْنُ عُمَرَ صَلَاةً مِنْ صَلَاةِ النَّهَارِ فِي السَّفَرِ، فَرَأَى بَعْضَهُمْ يُسَبِّحُ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: مَا يَصْنَعُونَ؟ قِيلَ لَهُ: يُسَبِّحُونَ قَالَ: «لَوْ كُنْتُ مُسَبِّحًا لَأَتْمَمْتُ الصَّلَاةَ، حَجَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ لَا يُسَبِّحُ بِالنَّهَارِ، وَحَجَجْتُ مَعَ أَبِي بَكْرٍ فَكَانَ لَا يُسَبِّحُ بِالنَّهَارِ، وَحَجَجْتُ مَعَ عُمَرَ فَكَانَ لَا يُسَبِّحُ بِالنَّهَارِ، وَحَجَجْتُ مَعَ عُثْمَانَ فَكَانَ لَا يُسَبِّحُ بِالنَّهَارِ»، ثُمَّ قَالَ ابْنُ عُمَرَ: {لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ} [الأحزاب: 21]
عیسیٰ بن عاصم اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: حضرت عبداللہ بن عمر نے سفر کے دوران دن کی کوئی نماز ادا کی اُنہوں نے بعض لوگوں کو نوافل ادا کرتے ہوئے دیکھا تو دریافت کیا: یہ لوگ کیا کر رہے ہیں ؟ اُنہیں بتایا گیا : یہ نوافل ادا کر رہے ہیں تو حضرت عبداللہ بن عمر نے فرمایا : اگر میں نے نفل ہی پڑھنے ہوتے تو میں نماز ہی مکمل پڑھ لیتا میں نے نبی اکرمﷺ کے ساتھ حج کیا ہے وہ بھی دن میں نوافل ادا نہیں کرتے تھے میں نے حضرت عمر کے ساتھ حج کیا ہے وہ بھی دن میں نوافل ادا نہیں کرتے تھے میں نے حضرت عثمان کے ساتھ بھی حج کیا ہے وہ بھی دن میں نوافل ادا نہیں کرتے تھے ۔ پھر حضرت عبداللہ بن عمر نے یہ آیت تلاوت کی : تمہارے لیے اللہ کے رسول کا طریقہ میں بہترین نمونہ ہے ۔
أَبِيهِ ← عِيسَى بْنِ عَاصِمٍ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Hadith 4443
