مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الزَّكَاةِ ‹ بَابُ سَاعِي النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 7228
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْكَرِيمِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حِبَّانَ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ حَيَاتَهُ جَمِيعًا رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ خَارِصًا»، يُقَالُ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ التَّيِّهَانِ أَبُو الْهَيْثَمِ، حَتَّى إِذَا مَاتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ أَبُو بَكْرٍ، فَأَبَى، فَقَالَ: «قَدْ كُنْتَ تُخْرِصُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» قَالَ: كُنْتُ أَفْعَلُ، ثُمَّ آتِي فَيَسْتَغْفِرَ لِي، فَمَنْ يَسْتَغْفِرُ لِي الْآنَ، فَبَعَثَ أَبُو بَكْرٍ رَجُلًا غَيْرَهُ
محمد بن یحییٰ بن حبان بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے اپنی زندگی میں انصار سے تعلق رکھنے والے کسی ایک فرد کو اندازہ لگانے کے لیے بھیجا جس کا نام عبداللہ بن تیہان بن ابو ہیثم تھا یہاں تک کہ جب نبی اکرمﷺ کا وصال ہو گیا تو حضرت ابو بکر نے اُنہیں بھیجا تو اُنہوں نے یہ بات نہیں مانی تو حضرت ابو بکر نے کہا : تم نبی اکرمﷺ کے لیے تو اندازہ لگایا کرتے تھے ؟ تو اُنہوں نے کہا: میں ایسا کیا کرتا تھا پھر میں آتا تھا تو نبی اکرمﷺ میرے لیے دعائے مغفرت کیا کرتے تھے اب میرے لیے دعائے مغفرت کون کرے گا ؟ تو حضرت ابو بکر نے اُن کی جگہ کسی دوسرے شخص کو بھیجوایا ۔
مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، ← عَبْدِ الْکَرِيمِ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Hadith 7228
