مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ تَعَاهُدِ الرَّجُلِ نَعْلَيْهِ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ · حديث 1514
عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ قَالَ: حُدِّثْتُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي نَعْلَيْهِ، ثُمَّ خَلَعَهُمَا فَوَضَعَهُمَا عَلَى يَسَارِهِ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: «لِمَ خَلَعْتُمْ نِعَالَكُمْ؟» فَقَالُوا: رَأَيْنَاكَ خَلَعْتَ نَعْلَيْكَ فَخَلَعْنَا نِعَالَنَا قَالَ: " إِنَّمَا خَلَعْتُهُمَا أَنَّ جِبْرَائِيلَ جَاءَنِي، فَقَالَ: إِنَّ فِيهَا خَبَثًا فَإِذَا جِئْتُمْ أَبْوَابَ الْمَسْجِدِ - أَوِ الْمَسَاجِدَ - فَتَعَاهَدُوهَا فَإِنْ كَانَ بِهَا خَبَثٌ فَحُكُّوهَا، ثُمَّ ادْخُلُوا فَصَلُّوا فِي نِعَالِكُمْ "
عطا ء بیان کرتے ہیں : مجھے یہ بات بتائی گئی کہ نبی اکرم ﷺ نے جوتےپہن کر نماز ادا کی ہے اور پھر اُنہیں اُتار کر اپنے بائیں طرف رکھ لیا پھر آپ نے نماز مکمل کی تو آپ نے لوگوں سے دریافت کیا: تم لوگوں نے جوتے کیوں اُتارے ہیں؟ اُن لوگوں نے عرض کی : کہ ہم نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے جوتے اُتار دئیے ہیں تو ہم نے بھی اُتار دئیے۔ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: میں نے اس لیے اُتارہ ہے جبراعیل میرے پاس آئے اُنہوں نے مجھے بتایا جوتے پر نجاست لگی ہوئی ہے جب تم مسجد کے دروازے کے قریب آؤ تو ان کو جائزہ لو اگر ان پر نجاست لگی ہو تو ان کو صاف کر لو اور پھر مسجد کے اندر آؤ اور جوتے پہن کر نماز اد ا کر لو ۔
عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · prayer book › The door to a man with an upper hand at the door of the mosque · Hadith 1514
