مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ شُهُودِ النِّسَاءِ الْجَمَاعَةَ · حديث 5105
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ قَالَ: قُلْتُ: أَرَأَيْتَ مَنْ تَخْرُجُ مِنَ النِّسَاءِ بِالنَّهَارِ إِذَا سَمِعَتِ الْأَذَانَ أَيَحِقُّ عَلَيْهَا حُضُورُ الصَّلَاةِ؟ قَالَ: «إِنْ أَحَبَّتْ أَنْ تَأْتِيَهَا، وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَلَا حَرَجَ» قُلْتُ: قَوْلُهُ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ} [الجمعة: 9] أَلَيْسَتْ لِلنِّسَاءِ مَعَ الرِّجَالِ؟ قَالَ: «لَا»
ابن جریح عطا ء کے بارے میں نقل کرتے ہیں: میں نے دریافت کیا: اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے کہ جو عورت دن کے وقت گھر سے باہر نکلتی ہے تو کیا اُ س پر یہ لازم ہو گا کہ وہ باجماعت نماز شریک ہو ؟ اُنہوں نے جواب دیا: اگر وہ عورت اس بات کی خواہشمند ہو تو جماعت نماز میں شریک ہو جائے ورنہ نہ ہو اگر نہیں ہو گی تو کوئی حرج بھی نہیں ہو گا ۔ میں نے دریافت کیا: اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے کیا مراد ہے : اے ایمان والو! جب قیامت کے دن نماز کے لیے اذان دے جائے ۔ کیا اس حوالے سے خواتین بھی مردوں کے ساتھ شامل نہیں ہوں گی؟ اُنہوں نے جواب دیا : جی نہیں!
عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Hadith 5105
