مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ اللَّغَطِ، وَرَفْعِ الصَّوْتِ، وَإِنْشَادِ الشِّعْرِ فِي الْمَسْجِدِ · حديث 1711
عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ نَافِعٍ قَالَ: كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَقُولُ: «لَا تُكْثِرُوا اللَّغَطَ - يَعْنِي فِي الْمَسْجِدِ -» قَالَ: فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ ذَاتَ يَوْمٍ فَإِذَا هُوَ بِرَجُلَيْنِ قَدِ ارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا فَبَادَرَاهُ فَأَدْرَكَ أَحَدَهُمَا فَضَرَبَهُ وَقَالَ: «مِمَّنْ أَنْتَ؟» قَالَ: مِنْ ثَقِيفٍ قَالَ: «إِنَّ مَسْجِدَنَا هَذَا لَا يُرْفَعُ فِيهِ الصَّوْتُ»
نافع بیان کرتے ہیں: حضرت عمر بن خطاب فرماتے تھے : مسجد میں شوروغوغا ززیادہ نہ کرو یعنی مسجد میں ایسا نہ کرو۔ راوی بیان کرتے ہیں: ایک دن حضرت عمر مسجد میں داخل ہوئے وہاں دو آدمی موجود تھے اُنکی آواز بلند ہو چکی تھی تو حضرت عمر تیزی سے اُن کی طعف لپکے اور اُنہوں نے اُن میں سے ایک شخص کو پا لیا اور اُس کی پٹائی کی اور اُس سے دریافت کیا: تم کہاں سے تعلق رکھتے ہو ؟ اُس نے کہا : ثقیف قبیلہ سے تو حضرت عمر نے فرمایا: ہماری اس مسجد میں آواز بلند نہیں کی جاتی ۔
نَافِعٍ ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · prayer book › The door to confusion, raising the voice, and chanting poetry in the mosque · Hadith 1711
