مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ الْأَذَانِ فِي الْبَادِيَةِ · حديث 1906
عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ قَالَ: «وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ قَرْيَةٍ غَيْرِ جَامِعَةٍ فَلَهُمْ أَذَانٌ، وَإِقَامَةٌ لِكُلِّ صَلَاةٍ»، قُلْتُ: سَاكِنِي عَرَفَةَ كَمْ لَهُمْ؟ قَالَ: «أَذَانٌ، وَإِقَامَةٌ لِكُلِّ صَلَاةٍ إِنْ كَانَ لَهُمْ إِمَامٌ يَجْمَعُهُمْ فَلَهُمْ أَذَانٌ، وَإِقَامَةٌ لِكُلِّ صَلَاةٍ»
ابن جریح عطا ء کا یہ قول نقل کرتے ہیں: جو شخص کسی ایسی بستی میں رہتا ہو جو جامع نہ ہو تو وہاں کے لوگوں کے لیے ہر نماز کے لیے اقامت کہی جائے گی ۔ میں نے دریافت کیا : عرفہ کے رہنے والوں کے لیے کیا حکم ہے اُن کے لیے کتنی مرتبہ ؟ اُنہوں نے جواب دیا : ہر نماز کے لیے اقامت کہی جائے گی اگر اُن لوگوں کا کوئی ایسا امام ہو جو اُنہیں اکھٹا رکھے تو اُن لوگوں کے لیے ہر نماز کے لیے اقامت کہی جائے گی ۔
عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · prayer book › The chapter on the call to prayer · Hadith 1906
