مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الِاعْتِكَافِ ‹ بَابُ نِكَاحِ الْمُجَاوِرِ وَطِيبِ الرَّجُلِ وَالْمَرْأَةِ · حديث 8104
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ قَالَ: لَا بَأْسَ بِأَنْ تُنْكَحَ الْمُجَاوِرَةُ فِي جِوَارِهَا، قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: وَسُئِلَ عَطَاءٌ أَتَتَطَيَّبُ الْمُعْتَكِفَةُ، وَتَتَزَيَّنُ؟ فَقَالَ: «لَا، أَتُرِيدُ أَنْ يَقَعَ عَلَيْهَا زَوْجُهَا؟ لَا تَطَيَّبُ»، قُلْتُ: فَفَعَلَتْ، أَيَقْطَعُ ذَلِكَ جِوَارَهَا؟ قَالَ: «لَا، وَلِمَ تَفْعَلُ ذَلِكَ، وَهِيَ فِي عِبَادَةٍ، وَتَخَشُّعٍ؟ إِنَّمَا طِيبُ الْمَرْأَةِ، وَزِينَتُهَا لِزَوْجِهَا»
عطا ء بیان کرتے ہیں: اس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ جوار میں بیٹھی ہوئی عورت کے جوار کے دوران اُس سے نکاح کر لیا جائے ۔ ابن جریح بیان کرتے ہیں: عطا ء سے سوال کیا گیا: کیا اعتکاف کرنے والی عورت خوشبو لگا سکتی ہے اور آراستہ ہو سکتی ہے ؟ اُنہوں نے جواب دیا : جی نہیں! کیا وہ یہ چاہتی ہے کہ اُس کا شوہر اُس کے ساتھ صحبت کر لے وہ خوشبو نہیں لگائے گی ۔ میں نے دریافت کیا: اگر وہ ایسا کر لیتی ہے تو کیا اُس کا اعتکاف ٹوٹ جائے گا ؟ اُنہوں نے جواب دیا: جی نہیں! وہ ایسا کیوں کرے گی جبکہ وہ عبادت کر رہی ہے اور خشوع و خضو ع اختیار کیے ہوئے ہے عورت کا خوشبو لگانا اور زیب و زینب اختیار کرنا اُ س کے شوہر کے لیے ہوتا ہے ۔
ابْنُ جُرَيْجٍ: وَسُئِلَ عَطَاءٌ: أَتَتَطَيَّبُ المُعْتَكِفَةُ، وَتَتَزَيَّنُ؟ ← لاَ بَأْسَ بِأَنْ تُنْكَحَ المُجَاوِرَةُ فِي جِوَارِهَا، ← عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · I'tikaaf book › Chapter of neighboring marriage and kindness for a man and a woman · Hadith 8104
