مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ فِتْنَةِ الْقَبْرِ · حديث 6737
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ خَبَّابٍ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ زَاذَانَ، عَنِ الْبَرَاءِ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى جِنَازَةٍ فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْقَبْرِ وَجَلَسْنَا حَوْلَهُ كَأَنَّ عَلَى رُءُوسِنَا الطَّيْرُ، وَهُوَ يَلْحَدُ لَهُ، فَقَالَ: «أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ»، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا كَانَ فِي إِقْبَالٍ مِنَ الْآخِرَةِ وَانْقِطَاعٍ مِنَ الدُّنْيَا نَزَلَتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ كَأَنَّ وُجُوهَهَا الشَّمْسُ مَعَ كُلِّ وَاحِدٍ كَفَنٌ وَحَنُوطٌ، فَجَلَسُوا مِنْهُ مَدَّ الْبَصَرِ حَتَّى إِذَا خَرَجَ رُوحُهُ صَلَّى عَلَيْهِ كُلُّ مَلَكٍ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَكُلُّ مَلَكٍ فِي السَّمَاءِ، وَفُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ لَيْسَ مِنْ أَهْلِ بَابٍ إِلَّا وَهُمْ يَدْعُونَ اللَّهَ أَنْ يُعْرَجَ بِرُوحِهِ قِبَلَهُمْ [ص:581]، فَإِذَا عُرِجَ بِرُوحِهِ قِبَلَهُمْ قَالُوا: أَيْ رَبِّ، عَبْدُكَ فُلَانٌ، فَيَقُولُ: أَرْجِعُوهُ فَإِنِّي عَهِدْتُ إِلَيْهِمْ أَنِّي مِنْهَا خَلَقْتُهُمْ، وَفِيهَا نُعِيدُهُمْ وَمِنْهَا نُخْرِجُهُمْ تَارَةً أُخْرَى، فَإِنَّهُ يَسْمَعُ خَفْقَ نِعَالِ أَصْحَابِهِ إِذَا وَلَّوْا عَنْهُ، فَيَأْتِيهِ آتٍ فَيَقُولُ: مَنْ رَبُّكَ؟ مَا دِينُكَ؟ مَنْ نَبِيُّكَ؟ فَيَقُولُ: رَبِّيَ اللَّهُ، وَدِينِيَ الْإِسْلَامُ، وَنَبِيِّي مُحَمَّدٌ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَيَنْتَهِرُهُ فَيَقُولُ: مَنْ رَبُّكَ؟ وَمَا دِينُكَ؟ وَمَنْ نَبِيُّكَ؟ وَهِيَ آخِرُ فِتْنَةٍ تُعْرَضُ عَلَى الْمُؤْمِنِ فَذَلِكَ حِينَ يَقُولُ: {يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ} [إبراهيم: 27] فَيَقُولُ: رَبِّيَ اللَّهُ، وَدِينِيَ الْإِسْلَامُ، وَنَبِيِّي مُحَمَّدٌ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَيَقُولُ لَهُ: صَدَقْتَ، ثُمَّ يَأْتِيَهِ آتٍ حَسَنُ الْوَجْهِ طَيِّبُ الرِّيحِ حَسَنُ الثِّيَابِ، فَيَقُولُ لَهُ: أَبْشِرْ بِكَرَامَةٍ مِنَ اللَّهِ وَنُعَيْمٍ مُقِيمٍ، فَيَقُولُ: أَنْتَ بَشَّرَكَ اللَّهُ بِخَيْرٍ مَنْ أَنْتَ؟ فَيَقُولُ: أَنَا عَمَلُكَ الصَّالِحُ، كُنْتَ وَاللَّهِ سَرِيعًا فِي طَاعَةِ اللَّهِ بَطِيئًا فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ فَجَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا، ثُمَّ يُفْتَحُ لَهُ بَابٌ مِنَ الْجَنَّةِ وَبَابٌ مِنَ النَّارِ، فَيُقَالُ: هَذَا مَنْزِلُكَ لَوْ عَصَيْتَ اللَّهَ أَنْزَلَكَ اللَّهُ بِهِ هَذَا، فَإِذَا رَأَى مَا فِي الْجَنَّةِ قَالَ: رَبِّ عَجِّلْ قِيَامَ السَّاعَةِ، كَيْمَا أَرْجِعَ إِلَى أَهْلِي وَمَالِي، فَيُقَالُ: اسْكُنْ، وَإِنَّ الْكَافِرَ إِذَا كَانَ فِي انْقِطَاعٍ مِنَ الدُّنْيَا وَإِقْبَالٍ مِنَ الْآخِرَةِ نَزَلَتْ إِلَيْهِ مَلَائِكَةٌ غِلَاظٌ شَدَّادٌ يَنْتَزِعُونَ رُوحَهُ كَمَا يُنْتَزَعُ السَّفُّودُ الْكَبِيرُ الشِّعْبِ مِنَ الصُّوفِ الْمُبْتَلِّ وَيُنْتَزَعُ نَفْسُهُ مَعَ الْعُرُوقِ، فَإِذَا خَرَجَ رُوحُهُ لَعَنَهُ كُلُّ مَلَكٍ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَكُلُّ مَلَكٍ فِي السَّمَاءِ، وَتُغْلَقُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ، لَيْسَ أَهْلُ بَابٍ إِلَّا وَهُمْ يَدْعُونَ أَنْ لَا يُعْرَجَ بِرُوحِهِ قِبَلَهُمْ [ص:582]، فَإِذَا عُرِجَ بِرُوحِهِ قَالُوا: رَبَّنَا هَذَا عَبْدُكَ فُلَانٌ، فَيَقُولُ: أَرْجِعُوهُ إِنِّي عَهِدْتُ إِلَيْهِمْ أَنِّي مِنْهَا خَلَقْتُهُمْ، وَفِيهَا أُعِيدُهُمْ، وَمِنْهَا أُخْرِجُهُمْ تَارَةً أُخْرَى قَالَ: فَإِنَّهُ يَسْمَعُ خَفْقَ نِعَالِ أَصْحَابِهِ إِذَا وَلَّوْا عَنْهُ، فَيَأْتِيهِ آتٍ فَيَقُولُ: مَنْ رَبُّكَ؟ وَمَا دِينُكَ؟ وَمَنْ نَبِيُّكَ؟ فَيَقُولُ: رَبِّيَ اللَّهُ، وَدِينِيَ الْإِسْلَامُ، وَنَبِيِّي مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَنْتَهِرُهُ انْتِهَارًا شَدِيدًا، فَيَقُولُ: مَنْ رَبُّكَ؟ وَمَا دِينُكَ؟ وَمَنْ نَبِيُّكَ؟ فَيَقُولُ: لَا أَدْرِي، فَيَقُولُ: لَا دَرَيْتَ وَلَا تَلَوْتَ، فَيَأْتِيهِ آتٍ قَبِيحُ الثِّيَابِ مُنْتِنُ الرِّيحِ فَيَقُولُ: أَبْشِرْ بِهَوَانٍ مِنَ اللَّهِ وَعَذَابٍ مُقِيمٍ، فَيَقُولُ: وَأَنْتَ فَبَشَّرَكَ اللَّهُ بِالشَّرِّ مَنْ أَنْتَ؟ فَيَقُولُ: أَنَا عَمَلُكَ الْخَبِيثُ، كُنْتَ بَطِيئًا عَنْ طَاعَةِ اللَّهِ سَرِيعًا فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ فَجَزَاكَ اللَّهُ شَرًّا، ثُمَّ يُقَيَّضُ لَهُ أَعْمَى أَصَمَّ أَبْكَمَ فِي يَدِهِ مِرْزَبَّةٌ لَوْ ضَرَبَ بِهَا جَبَلًا كَانَ تُرَابًا، فَيَضْرِبُهُ ضَرْبَةً فَيَصِيرُ تُرَابًا، ثُمَّ يُعِيدُهُ اللَّهُ كَمَا كَانَ فَيَضْرِبُهُ ضَرْبَةً أُخْرَى فَيَصِيحُ صَيْحَةً يَسْمَعُهَا كُلُّ شَيْءٍ إِلَّا الثَّقَلَيْنِ، ثُمَّ يُفْتَحُ لَهُ بَابٌ مِنَ النَّارِ وَيُمَهَّدُ لَهُ فِرَاشٌ مِنَ النَّارِ " قَالَ مَعْمَرٌ، وَسَمِعْتُهُ عَنْ مُعَاذٍ أَنَّهُ قَالَ: يَسْمَعُهُ كُلُّ شَيْءٍ إِلَّا الثَّقَلَيْنِ
6737 –حضرت براء بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرمﷺ کے ساتھ ایک جنازہ میں شریک ہوئے نبی اکرمﷺ قبر کے پاس بیٹھ گئے ہم بھی آپ کے اردگر د بیٹھ گئے جیسے ہمارے سروں پر پرندے بیٹھے ہوتے ہیں میت کے لیے لحد تیار کی جا رہی تھی تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا:میں قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی۔ پھر آپ نے ارشاد فرمایا:جب مؤمن آخرت کی طرف آتا ہے اور دنیا سے لاتعلق ہو جاتا ہے تو فرشتے اُس پر نازل ہوتے ہیں اور ان فرشتوں کے چہرے سورج کی طرح چمکدار ہوتے ہیں اُن میں سے ایک کے پاس خوشبو اور کفن ہوتی ہے اور وہ حد نگاہ تک بیٹھ جاتے ہیں یہاں تک کہ جب مؤمن کی روح نکلتی ہے تو ہر فرشتہ آسمان اور زمین کی طرف موجود و ہوتا ہے او ر ہر فرشتہ آسمان میں موجو د ہوتا ہے وہ اس کی روح کے لیے دعائے رحمت کرتے ہیں اُس روح کے لیے جنت کے دروازہ کھول دئیے جاتے ہیں ہر دروازہ پر تعینات فرشتہ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرتے ہیں کہ اُس مؤمن کی روح اُن لوگوں کی طرف سے اوپر جائے جب اُ ن لوگوں کی طرف سے روح اوپر جاتی ہے تو وہ فرشتے یہ کہتے ہیں :اے میرے پروردگار! یہ تیرا فلاں بندہ ہے ! تو پروردگار فرماتا ہے : اسے واپس لے جاؤ کیونکہ میں نےان لوگوں کے ساتھ وعدہ کیا ہے کہ میں نے ان لوگوں کو اُس مٹی سے پیدا کیا ہے اور اسی میں میں انہیں واپس لوٹادوں گا اور اس میں سے ہی نہیں دوبارہ اُٹھاؤں گا ۔ تو مؤمن اپنے ساتھیوں کے جوتوں کی آہٹ بھی سنتا ہے جب وہ اُسے چھوڑ کر جا رہے ہوتے ہیں۔ پھر کوئی اُس کے پاس آتا ہے اور دریافت کرتا ہے : تمہارا پروردگار کون ہے ؟ تمہارا دین کیا ہے ؟ تمہارے نبی کون ہی؟ تو جواب دیتا ہے : میرا پروردگار اللہ ہے میرا دین اسلام ہے میرے نبی حضر ت محمد ﷺ ہیں تو یہ وہ آخری آزمائش ہوتی ہے جو مؤمن کے سامنے پیش کی جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے یہی مراد ہے : اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو دنیاوی زندگی میں اور آخرت میں ثابت قول پر ثابت قدم رکھتا ہے ۔ تو وہ مؤمن بندہ یہ کہتا ہے : میرا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے میرا دین اسلام ہے اور میرے نبی حضرت محمد !ﷺہیں ۔ تو فرشتہ اُس سے کہتا ہے :تم سچ کہہ رہے ہو! پھر ایک او ر شخص اُس کے پاس آتا ہے جس کا چہرہ خوبصورت ہوتا ہے اور خوشبو اچھی ہوتی ہے کپڑے عمدہ ہوتے ہیں وہ اُس سے کہتا ہے : اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملنے والی عزت افزائی اور ہمیشہ رہنے والی نعمتوں کی خوشخبرہ قبول کرو! تو بندہ کہتا ہے : اللہ تعالیٰ تمہیں بھی بھلائی کی خوشخبری دے ! تم کون ہو؟ تو وہ جواب دیتا ہے : میں تمہارا نیک عمل ہوں اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ کی فرمانبر داری میں بڑے تیز تھے اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں سست تھے تو اللہ تعالیٰ تمہیں جزائے خیر عطا ء کرے ! پھر اُس کے لیے جنت کا دروازہ اور جہنم کا دروازہ کھولا جاتا ہے اور اُسے یہ کہا جاتا ہے اگر تم اللہ تعالیٰ ی نافرمانی کرتے تو تمہار ا ٹھکانہ یہ ہونا تھا اللہ تعالیٰ نے تمہیں یہاں بھیج دینا تھا۔ جب وہ بندہ جنت کی نعمتوں کو دیکھتا ہے تو عرض کرتا ہے : میرے پروردگار ! تو جلدی سے قیامت کو قائم کر دے تاکہ میں اپنے بال بچوں کی طرف واپس جا سکوں تو یہ کہا جاتا ہے : تم سکون سے رہو! جب کافر شخص دنیا سے لاتعلق ہوتا ہے اور آخرت میں آتا ہے تو فرشتے سخت ترین حالت میں سختی کے ساتھ اُس کی روح نکالتے ہیں جس طرح روئی میں نے نکالا جاتا ہے اور وہ اُس کی رگو ں سے اُس کی جان کو کھینچ لیتے ہیں جب اُسکی روح نکلتی ہے تو زمین و آسمان میں موجود او ر آسمان میں موجود ہر فرشتہ اُس پر لعنت کرتا ہے آسمان کے دروازہ بند کر دئیے جاتے ہیں ہر دروازہ کے لوگ یہ کہتے ہیں کہ اُس کی روح اُن کی طرف سے اوپر نہ جائے جب اُسکی روح اوپر جاتی ہے تو فرشتہ کہتے ہیں: اے ہمارے پروردگار! یہ تیراہ فلاں بندہ ہے ! تو پروردگار فرماتا ہے : تم اسے واپس لے جاؤ کیونکہ میں نے ان لوگوں کے ساتھ عہد کیا تھا کہ میں انہیں اس زمین سے پیدا کروں گا اور ا س میں انہیں لوٹا دوں گا اور دوبارہ اس میں سے ہی اُٹھاؤں گا ۔ نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں: تو وہ اپنے ساتھیوں کی جوتوں کی آہٹ بھی سنتا ہے جب وہ لوگ اُسے چھوڑ کر جا رہے ہوتے ہیں ۔ پھر ایک فرشتہ اُس کے پاس آتا ہے اور دریافت کرتا ہے : تمہارا پروردگار کون ہے ؟ تمہارا دین کیا ہے ؟ تمہارا نبی کون ہے ؟ تو وہ جواب دیتا ہے : میرا پروردگار اللہ تعالیٰ تعالیٰ ہے میرا دین اسلام ہے میرے نبی حضرت محمد ﷺ ہیں ۔ تو فرشتہ اُسے سختی سے ڈانٹتے ہوئے کہتا ہے : تمہارا پروردگار کون ہے ؟ تمہارا دین کیا ہے ؟ تمہارا نبی کو ن ہے ؟ تو وہ جواب دیتا ہے : مجھے نہیں معلوم ! تو فرشتہ کہتا ہے : نہ ہی تمہیں معلوم ہے اور نہ ہی تم نے تلاوت کی ہے ۔ پھر ایک اور شخص اُسکے پاس آتا ہے جسکے کپڑے انتہائی برے ہوتے ہیں اور انتہائی بدبودار ہوتا ہے وہ کہتا ہے : اللہ تعالیٰ کی طر ف سے بےعزتی اور ہمشہ رہنے والے عذاب کی خبر قبول کرو! تو وہ بندہ کہتا ہے : اللہ تعالیٰ تمہیں بھی بری خبر دے ! تم کون ہو ؟ وہ جواب دیتا ہے : میں تمہارا برا عمل ہوں تم اللہ تعالیٰ کی فرمانبر داری میں سست تھے اور اُس کی نافرمانی میں بڑے تیز تھے تو اللہ تعالیٰ نے تمہیں بری جزاء دی ہے ۔ پھر اُس شخص پر اندھے اور بہرے فرشتہ مسلط کیے جاتے ہیں جن کے ہاتھ میں گرز ہوتا ہے اگر وہ گرز کسی پہاڑ پر مارا جائے تو وہ مٹی ہو جائے وہ فرشتہ وہ گرز اُس بندہ پر مارتا ہے تو وہ بندہ ایسے چینخ مارتا ہے جیسے انسانوں اور جنابت کے علاوہ ہر چیز سنتی ہے پھر اُس بندہ کے لیے جہنم کے دروازہ کھول دئیے جاتے ہیں اور اُس کے لیے جہنم کا بسترہ بچھا دیا جاتا ہے ۔
الْبَرَاءِ، ← زَاذَانَ ← المِنْهَالِ بْنِ عُمَرَ، ← يُونُسَ بْنِ خَبَّابٍ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · The Funeral Book › The door of the grave trial · Hadith 6737
