مصنف عبدالرزاق · كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَسْحِ الْأَصْلَعِ · حديث 39
عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: كَيْفَ يَمْسَحُ الْأَصْلَعُ؟ قَالَ: «يَمْسَحُ رَأْسَهُ كُلَّهُ مَا فِيهِ شَعْرٌ، وَمَا هُوَ أَصْلَعُ مِنْهُ يُصِيبُهُ الْمَاءُ مَا أَصَابَ، وَيُخْطِئُ مَا أَخْطَأَ وَلَيْسَ عَلَيْهِ أَنْ يُنَقِّيَهُ»
ابن جریح بیان کرتے ہیں : میں نے عطا ء سے دریافت کیا : آگے سے گنجا شخص مسح کیسے کرے گا ؟ اُنہوں نے فرمایا : وہ اپنے پورے سر کا مسح کرے گا اُس حصے کا بھی جہاں بال ہیں اور وہ حصہ بھی گنجا ہے اور وہ اس پورے سر پر پانی پہنچائے گا اور جو حصہ رہ جائے گا وہ رہ جائے اس پر اسے اچھی طرح صاف کرنا لازم نہیں ہے ۔
قُلْتُ لِعَطَاءٍ: كَيْفَ يَمْسَحُ الْأَصْلَعُ؟ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Hadith 39
