مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ بَقِيَّةِ الصُّفُوفِ · حديث 2442
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ هِشَامٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَبِي عَامِرٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي خُطْبَتِهِ، قَلَّ مَا يَدَعُ أَنْ يَخْطُبَ بِهِ: «إِذَا قَامَ الْإِمَامُ فَاسْتَمِعُوا وَأَنْصِتُوا، فَإِنَّ لِلْمُنْصِتِ الَّذِي لَا يَسْمَعُ مِنَ الْحَظِّ مِثْلَ الَّذِي يَسْمَعُ، فَإِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَاعْدِلُوا الصُّفُوفَ، حَاذُوا بِالْمَنَاكِبِ، فَإِنَّ اعْتِدَالَ الصَّفِّ مِنْ تَمَامِ الصَّلَاةِ»، ثُمَّ لَا يُكَبِّرُ حَتَّى يَأْتِيَهُ رِجَالٌ قَدْ وَكَّلَهُمْ لِتَسْوِيَةِ الصُّفُوفِ، يُخْبِرُونَهُ أَنَّهَا قَدِ اسْتَوَتْ، فِيُكَبِّرُ
مالک بن ابو عامر بیان کرتے ہیں: حضرت عثمان غنی اپنے خطبہ میں کہا کرتے تھے اور بہت کم ایسا ہوتا تھا وہ خطبے کے دوران یہ نہ کہتے ہوں جب امام کھڑا ہو جائے تو تم غور سے سنو اور خاموش رہو کیونکہ جس شخص کو آواز نہیں آرہی اور پھر بھی وہ خاموش رہتا ہے تو اُسے اُتنا ہی ثوا ب ملے گا جتنا اُس شخص کو ملے گا جو سن کر خاموش رہتا ہے اور جب نماز کھڑی ہو جائے تو صفیں درست رکھو اور کندھے برابر رکھو کیونکہ صفیں برابر کرنا نماز کی تکمیل کا حصہ ہے پھر وہ اُس وقت تک تکبیر نہیں کہتے تھے جب تک کچھ لوگ اُن کے پاس سے آکے یہ نہیں بتا دیتے تھے یہ وہ لوگ تھے جہیں اُنہوں نے صفیں درست کرنے کے لیے مقرر کیا ہوتا تھا اُس کے بعد حضرت عثمان غنی تکبیر کہتے تھے ۔
عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، أَنَّهُ كَانَ ← مَالِکَ بْنَ أَبِي عَامِرٍ ← هِشَامٍ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · prayer book › The door for the rest of the rows · Hadith 2442
