مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ الرَّجُلِ يُصَلِّي وَالرَّجُلُ مُسْتَقْبِلُهُ · حديث 2393
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي حَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: إِنِّي سَأَلْتُ طَاوُسًا، فَقَالَ: مَا شَأْنُ النَّاسِ مَا يَبْقَى أَحَدٌ [ص:37] أَنْ يُصَلِّيَ وَالرَّجُلُ مُسْتَقْبِلُهُ؟ قَالَ: مِنْ أَجْلِ رَجُلٍ نَذَرَ لَيُقَبِّلَ جَبِينَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ أَخْبَرَ طَاوُسٌ الرَّجُلَ بِذَلِكَ الْخَبَرِ، قَالَ الْحَسَنُ: فَسَأَلْتُ طَاوُسًا عَنْ ذَلِكَ فَكَتَمَنِي، وَقَالَ: إِنَّمَا تُرِيدُ أَنْ تَقُولَ: أَخْبَرَنِي طَاوُسٌ قَالَ: فَأَمَرْتُ رَجُلًا مِنَ الْحَاجِّ وَبَيْنِي وَبَيْنَهُ، فَقُلْتُ لَهُ: سَلْهُ، هَلْ كَانَ رَجُلٌ نَذَرَ لَيُقَبِّلَنَّ جَبِينَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَجَاءَ لِيَسْجُدَ عَلَى جَبِينِهِ؟ فَقَالَ: تَعَالَ هَاهُنَا فَجَاءَهُ حَتَّى اسْتَقْبَلَ الرَّجُلُ الْقِبْلَةَ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّجُلُ مُسْتَقْبِلُهُ، فَأَصْغَى النَّبَيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ حَتَّى أَمْكَنَهُ مِنْ جَبْهَتِهِ، فَسَجَدَ عَلَيْهَا، وَكِلَاهُمَا مُسْتَقْبِلٌ الْقِبْلَةِ، وَلَيْسَ وَاحِدٌ مِنْهُمَا فِي صَلَاةٍ " قَالَ حَسَنٌ: " فَأَخْطَأَ الَّذِي أَخْبَرَهُ قَالَ: لَيُقَبِّلَنَّ قَالَ: وَعَرَفْتُ إِنَّمَا الْخَبَرُ حِينَ طَاوُسٍ، وَعَرَفْتُ إِنَّمَا يَكْرَهُ يَعْنِي صَلَاةَ الرَّجُلِ مُسْتَقْبِلٌ الرَّجُلِ لِذَلِكَ "
حسن بن مسلم بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے یہ بات بیان کی ہے میں نے طاؤس سے دریافت کیا اور یہ کہا : لوگوں کا کیا معاملہ ہے کوئی شخص اس بات سے بچنے کی کوشش نہیں کرتا کوئی دوسرا شخص اُس کے سامنے موجود ہو ۔ اُنہوں نے جواب دیا: اس کی وجہ یہ ہے ایک شخص نے نذرمانی کی وہ نبی اکرمﷺ کی پیشانی پر بوسہ دے گا ۔ پھر طاؤس نے اُس آدمی کو روایت سنائی ۔ حسن بن مسلم کہتے ہیں: میں نے طاؤس اس بارے میں دریافت کیا تو اُنہوں نے مجھ سے اسے چھپا لیا اُنہوں نے کہا: تم یہ چاہتے ہو کہ تم یہ کہو کہ طاؤس نے مجھے خبر بیان کی ہے ۔ حسن بن مسلم کہتے ہیں: پھر میں نے ایک حاجی شخص کو یہ ہدایت کی جو میرے اور اُن کے درمیان موجود تھا میں نے اُن سے کہا : تم ان سے دریافت کرو کہ کیا کوئی ایسا شخص تھا جس نے نذرمانی کی وہ نبی اکرمﷺ کی پیشانی پر بوسہ دے گا اور پھر وہ آپ کی پیشانی سجدہ کرنے کے لیے آیا ۔ اُنہوں نے کہا: تم یہاں آگے آؤ ! وہ شخص اُن کے آگے آیا یہاں تک کہ وہ شخص قبلہ کی سمت میں آپ کے آگے آگیا ۔ نبی اکرمﷺ کے قبلہ کی طرف وہ شخص موجود تھا نبی اکرمﷺ نے اپنا سر اُس کی طر ف بڑھایا یہاں تک کے آپ نے اُسے موقع دیا تو اُس نے آپ کی پیشانی پر سجدہ کیا ان دونوں کا رُخ قبلہ کی طرف تھا اور ان میں سے کوئی ایک بھی نماز کی حالت میں نہیں تھا ۔ حسن بن مسلم کہتے ہیں: جس شخص نے یہ خبر بیان کی اُس نے غلطی کی کیونہ رویات کے یہ الفاظ ہیں وہ ضرور بوسہ لے گا ۔ راوی کہتے ہیں: اس سے مجھے پتا چل گیا کہ روایت وہی ہے جو طاؤس نے نقل کی ہے اور مجھے یہ بھی اندازہ ہو گیا کہ وہ اس بات کو مکروہ سمجھتے ہیں آدمی اس طرح نماز ادا کرے کہ اُس کا رُخ کسی دوسرے شخص کی طرف ہو ۔
رَجُلٌ: إِنِّي سَأَلْتُ طَاوُسًا، ← حَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Hadith 2393
