مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ ‹ بَابُ الصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ · حديث 5631
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: «إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ يَوْمَ الْفِطْرِ فَصَلَّى فَبَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ، ثُمَّ خَطَبَ النَّاسَ فَلَمَّا فَرَغَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَزَلَ فَأَتَى النِّسَاءَ فَذَكَّرَهُنَّ وَهُوَ مُتَّكِئٍ عَلَى بِلَالٍ، وَبِلَالٌ بَاسِطٌ ثَوْبَهُ يُلْقِينَ فِيهِ النِّسَاءُ صَدَقَةً». قُلْتُ لِعَطَاءٍ: أَزَكَاةُ يَوْمِ الْفِطْرِ؟ [ص:279] قَالَ: لَا، وَلَكِنَّهُ صَدَقَةً يَتَصَدَّقْنَ بِهَا حِينَئِذٍ، تُلْقِي الْمَرْأَةُ فَتْخَتَهَا، وَيُلْقِينَ وَيُلْقِينَ قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: أَتَرَى حَقًّا عَلَى الْإِمَامِ الْآنَ حَتَّى يَأْتِيَ النِّسَاءَ حِينَ يَفْرُغُ فَيُذَكِّرَهُنَّ؟ قَالَ: أَيْ لَعَمْرِي، إِنَّ ذَلِكَ لَحَقٌّ عَلَيْهِمْ، وَمَا لَهُمْ لَا يَفْعَلُونَ ذَلِكَ؟
حضرت جابر بن عبداللہ انصاری بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ عید الفطر کے دن کھڑے ہوئے آپ نے خطبہ دینے سے پہلے نماز ادا کی پھر آپ نے لوگوں کو خطبہ دیا جب نبی اکرمﷺ اس سے فارغ ہوئے تو آپ نیچے اُترے آپ خواتین کے پاس تشریف لائے آپ نے انہیں وعظ و نصیحت کی آپ اُس وقت حضرت بلال سے ٹیک لگائے ہوئے تھے حضرت بلال نے اپنے کپڑے کو پھیلایا ہوا تھا اور خواتین صدقہ کی چیزیں اُس میں ڈال رہی تھیں ۔ ابن جریح بیان کرتے ہیں: میں نے عطا ء سے دریافت کیا: کیا یہ صدقہ فطر تھا ؟ اُنہوں نے جواب دیا: جی نہیں! بلکہ یہ وہ صدقہ ہے جو اُس موقع پر اُن خواتین نے کیا تھا اُنہوں نے اپنی انگوٹھیاں اُس میں ڈالی تھیں اور یہ چیز ڈالی تھی اور وہ چیز ڈالی تھی۔ ابن جریح بیان کرتے ہیں: میں نے عطا ء سے دریافت کیا: آپ کی کیا رائے ہے کیا امام پر یہ بات لازم ہے کہ ایسے موقع پر وہ خواتین کے پاس آئے اور اُنہیں نصیحت کرے ؟ عطا ء نے جواب دیا: جی ہاں! مجھے اپنی زندگی کی قسم ہے ! ان لوگوں پر یہ بات لازم ہے اور وہ لوگ ایسا کیوں نہ کریں!
جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ ← عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · The two Eid prayers book › The chapter on prayer before the sermon · Hadith 5631
