مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ مَا يَفُوتُ الْإِنْسَانَ مِنَ التَّشَهُّدِ · حديث 3098
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ قَالَ: «إِذَا فَاتَتْكَ رَكْعَةٌ مَعَ الْإِمَامِ فَجَلَسَ، فَتَشَهَّدَ فِي شَفْعٍ وَأَنْتَ فِي وِتْرٍ، فَإِذَا انْصَرَفَ الْإِمَامُ فَأَوْفِ مِمَّا بَقِيَ مِنْ صَلَاتِكَ، ثُمَّ اسْجُدْ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ» قُلْتُ: فَلَمْ أَسْجُدُهُمَا؟ قَالَ: «مِنْ أَجْلِ أَنَّهُ لَا يُجْلَسُ فِي وِتْرٍ وَلَا يُتَشَهَّدُ فِيهِ، وَمِنْ أَجْلِ أَنَّهُ جَلَسَ فِي وِتْرٍ»، قُلْتُ: يَنْزِلُ ذَلِكَ مِنْهُ بِمَنْزِلَةِ السَّهْوِ وَالْخَطَإِ قَالَ: «نَعَمْ»
3098 - عطا ء فرماتے ہیں: جب امام کے ساتھ تمہاری ایک کرکعت رہ گئی ہو اور پھر وہ بیٹھ جائے اور جفت رکعت والی نماز تشہد پڑھے اور تمہاری طاق رکعت ہو تو جب امام نماز ختم کرے تو تم اپنی باقی رہ جانے والی نماز کر پورا کر لو اور پھر د و مرتبہ سجدہ سہو کر لو ۔ میں نے دریافت کیا: میں یہ سجدہ کیوں کروں گا ؟ اُنہوں نے کہا: اس وجہ سے کہ طاق رکعت میں بیٹھا نہیں گیا اور اُن میں تشہد نہیں پڑھا گیا اور اس وجہ سے کہ وہ طاق رکعت میں بیٹھ گیا تھا ۔ میں نے دریافت کیا: کیا اس چیز کو سہو اور خطا ء کے حکم میں شمار کیا جائے گا ؟ اُنہوں نے جواب دیا: جی ہاں!
عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Hadith 3098
