مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ الْمَشْيِ إِلَى الصَّلَاةِ · حديث 3402
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ مُقْبِلًا إِلَى الصَّلَاةِ فَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَلْيَمْشِ عَلَى رِسْلِهِ، فَإِنَّهُ فِي صَلَاةٍ، فَمَا أَدْرَكَ فَصَلَّى، وَمَا فَاتَهُ فَلْيَقْضِهِ بَعْدُ» قَالَ عَطَاءٌ: «وَإِنِّي لَأَجِدُهُ أَنَا»، قُلْتُ: فَلَا تَعْجَلُ إِذَا أُقِيمَتْ، وَإِنْ كُنْتَ تَتَوَضَّأُ وَتَغْتَسِلُ؟ قَالَ: «نَعَمْ، لَا أَعْجَلُ عَنْ ذَلِكَ»
حضر ت ابو ہریرہ فرماتے ہیں: جب کوئی نماز کی طرف آتا ہے اور نماز کھڑی ہو چکی ہوتی ہے تو اُسے عام رفتار سے چل کر آنا چاہیے کیونکہ وہ نماز کی حالت میں شمار ہوتا ہے اُسے جتا حصہ ملے گا وہ ادا کر لے اور جو گزر چکا ہو اُسے بعد میں ادا کر لے گا ۔ عطا ء فرماتے ہیں: میں ایسا ہی کرتا ہوں۔ میں نے دریافت کیا: اگر نماز کھڑی ہو چکی ہو اور آپ وضو یا غسل کی حالت میں ہوں پھر بھی آپ جلدی نہیں کرتا ؟ اُنہوں نے جواب دیا: جی ہاں! میں پھر بھی جلدی نہیں کرتا ۔
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · prayer book › The door to walking to prayer · Hadith 3402
