مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ كَيْفَ الْقِرَاءَةُ فِي الصَّلَاةِ، وَهَلْ يُقْرَأُ بِبَعْضِ السُّوَرِ؟ · حديث 2656
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ قَالَ: «كَانَ - يَعْنِي عَلِيًّا - يَقْرَأُ فِي الْأُولَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَسُورَةٍ، وَلَا يَقْرَأُ فِي الْأُخْرَيَيْنِ» قَالَ الزُّهْرِيُّ: «وَكَانَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَسُورَةٍ، وَفِي الْأُخْرَيَيْنِ بِأُمِّ الْقُرْآنِ» قَالَ الزُّهْرِيُّ: «وَالْقَوْمُ يَقْتَدُونَ بِإِمَامِهِمْ»
عبیداللہ بن ابو رافع بیان کرتے ہیں: وہ عصر اور ظہر کی پہلی دو رکعات میں سورہ فاتحہ اور اُس کے ساتھ ایک سورت کی تلاوت کرتے تھے جبکہ وہ آخری دو رکعات میں تلاوت نہیں کرتے تھے ۔ زہری بیان کرتے ہیں: حضرت جابر بن عبداللہ انصاری ظہر اور عصر کی پہلی دو رکعات میں سورہ فاتحہ اور اُس کے ساتھ ایک اور سورت کی تلاوت کرتے تھے جبکہ آخری دو رکعات میں سورہ فاتحہ کی تلاوت کرتے تھے ۔ زہری بیان کرتے ہیں: لوگ اپنے امام کی پیروی کریں گے ۔
عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Hadith 2656
