مصنف عبدالرزاق · كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْمَسْحِ بِالْمِنْدِيلِ · حديث 706
عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: سُئِلَ عَطَاءٌ، عَنِ الْمِنْدِيلِ الْمُهَدَّبِ أَيَمْسَحُ بِهِ الرَّجُلُ الْمَاءَ؟ فَأَبَى أَنْ يُرَخِّصَ فِيهِ، وَقَالَ: «هُوَ شَيْءٌ أُحْدِثَ»، قُلْتُ: أَرَأَيْتَ إِنْ كُنْتُ أُرِيدُ أَنْ يُذْهِبَ الْمِنْدِيلُ عَنِّي بَرْدَ الْمَاءِ؟ قَالَ: «فَلَا بَأْسَ بِهِ إِذًا»
ابن جریح بیان کرتے ہیں :عطا ء سے پلو والے رومال کے بارے میں دریافت کیا گیا کیا آدمی اُس کے ذریعے پانی پونچھ لے گا ؟ تو اُنہوں نے اس بارے میں رخصت دینے سے انکار کر دیا اور کہا یہ ایک ایسی چیز ہے جو بعد میں سامنے آئے گی؟ میں نے کہا : اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے کہ اگر میرا یہ ارادہ ہو کہ اُس رومال کے ذریعے مجھ تک پانی کی ٹھنڈک مجھ سے دور ہو جائے ؟ تو اُنہوں نے فرمایا : اس مین کوئی حرج نہیں ہے۔
سُئِلَ عَطَاءٌ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Purity › The tissue door of the anointing · Hadith 706
